کتاب البریہ — Page 83
روحانی خزائن جلد ۱۳ ۸۳ والے سب نجات پائیں گے۔ ہاں یہ بھی فرمایا ہے کہ وہ کامل تو حید جو مدار نجات ہے جس میں کوئی شرک کی تاریکی نہیں اور جو ہر ایک نقصان سے خالی ہے وہ صرف قرآن میں پائی (۵۹) جاتی ہے۔ اس لئے التزاماً یہ بھی لازم آیا کہ ہم اس تو حید کو قرآن اور نبی آخر الزمان کے ذریعہ سے ڈھونڈیں۔ کیونکہ یہ ثابت شدہ امر ہے کہ وہ دوسری جگہ نہیں ملتی۔ اب اس جگہ ہر ایک دانشمند سمجھ جائے گا کہ گناہ اور معافی گناہ کی فلاسفی کیا ہے ۔ مگر افسوس کہ عیسائیوں کے خیال میں جما ہوا ہے کہ عذاب الہی اس انسان کے عذاب کی مانند ہے جو کسی اپنے خدمتگار کو اس کی نافرمانی کی حرکات سے چڑ کر اور نہایت تنگ آ کر مارتا ہے۔ پس گویا وہ اس تنگدل آقا کی مانند ہے جس نے اپنے نفس پر فرض کر رکھا ہے کہ کبھی قصور سے درگذر نہ کرے جب تک ایک قصور وار کے عوض میں دوسرے کو ذبح نہ کر لیوے۔ منجملہ میرے اعتراضات کے ایک یہ بھی تھا کہ یہ دعویٰ پادریوں کا سراسر غلط ہے کہ قرآن تو حید اور احکام میں نئی چیز کونسی لایا جو توریت میں نہ تھی ۔ بظاہر ایک نادان توریت کو دیکھ کر دھو کہ میں پڑے گا کہ توریت میں توحید بھی موجود ہے اور احکام عبادت اور حقوق عباد کا بھی ذکر ہے۔ پھر کونسی نئی چیز ہے جو قرآن کے ذریعہ سے بیان کی گئی ۔ مگر یہ دھو کہ اسی کو لگے گا جس نے کلام الہی میں کبھی تدبر نہیں کیا۔ واضح ہو کہ الہیات کا بہت سا حصہ ایسا ہے کہ توریت میں اس کا نام و نشان نہیں۔ چنانچہ توریت میں توحید کے باریک مراتب کا کہیں ذکر نہیں۔ قرآن ہم پر ظاہر فرماتا ہے کہ توحید صرف اس بات کا نام نہیں کہ ہم بتوں اور انسانوں اور حیوانوں اور عناصر اور اجرام فلکی اور شیاطین کی پرستش سے باز رہیں بلکہ توحید تین درجہ پر منقسم ہے درجہ اول عوام کے لئے یعنی ان کے لئے جو خدا تعالیٰ کے غضب سے نجات پانا چاہتے ہیں۔ دوسرا درجہ خواص کے لئے یعنی ان کے لئے جو عوام کی نسبت زیادہ تر قرب الہی کے ساتھ خصوصیت پیدا کرنی چاہتے ہیں۔ اور تیسرا درجہ خواص الخواص کیلئے جو قرب کے کمال تک پہنچنا چاہتے ہیں۔ اوّل مرتبہ توحید کا تو یہی ہے کہ غیر اللہ کی پرستش نہ کی جائے