کتاب البریہ — Page 73
روحانی خزائن جلد ۱۳ ۷۳ كتاب البرية طرح عدل میں فرق نہ آوے اور رحم بھی وقوع میں آ جائے ۔ مگر ایک بے گناہ کے گلے پر نا حق چھری پھیر کر نہ عدل قائم رہ سکا اور نہ رحم ۔ لیکن یہ وسوسہ کہ عدل اور رحم دونوں خدا تعالیٰ کی ذات میں جمع نہیں ہو سکتے۔ کیونکہ عدل کا تقاضا ہے کہ سزادی جائے اور رحم کا تقاضا ہے کہ در گذر کی جائے۔ یہ ایک ایسا دھوکہ ہے کہ جس میں قلت تدبیر سے کو نہ اندیش عیسائی گرفتار ہیں۔ وہ غور نہیں کرتے کہ خدا تعالیٰ کا عدل بھی تو ایک رحم ہے۔ وجہ یہ کہ وہ سراسر انسانوں کے فائدہ کے لئے ہے۔ مثلاً اگر خدا تعالیٰ ایک خونی کی نسبت باعتبا ر اپنے عدل کے حکم فرماتا ہے کہ وہ مارا جائے تو اس سے اس کی الوہیت کو کچھ فائدہ نہیں۔ بلکہ اس لئے چاہتا ہے کہ تا نوع انسان ایک دوسرے کو مار کرنا بود نہ (۵۰) ہوجائیں۔ سو یہ نوع انسان کے حق میں رحم ہے اور یہ تمام حقوق عباد خدا تعالیٰ نے اسی لئے قائم کئے ہیں کہ تا امن قائم رہے اور ایک گروہ دوسرے گروہ پر ظلم کر کے دنیا میں فساد نہ ڈالیں۔سو وہ تمام حقوق اور سزائیں جو مال اور جان اور آبرو کے متعلق ہیں در حقیقت نوع انسان کے لئے ایک رحم ہے۔ انجیل میں کہیں نہیں لکھا کہ یسوع کے کفارہ سے چوری کرنا۔ بیگا نہ مال دبا لیتا۔ ڈا کہ مارنا ۔ خون کرنا۔ جھوٹی گواہی دینا سب جائز اور حلال ہو جاتے ہیں اور سزائیں معاف ہو جاتی ہیں بلکہ ہر ایک جرم کے لئے سزا ہے اسی لئے یسوع نے کہا کہ اگر تیری آنکھ گناہ کرے تو اسے نکال ڈال کیونکہ کا نا ہو کر زندگی بسر کرنا جہنم میں پڑنے سے تیرے لئے بہتر ہے۔ پس جبکہ حقوق کے تلف کرنے پر سزائیں مقرر ہیں جن کو مسیح کا کفارہ دور نہیں کر سکا تو کفارہ نے کن سزاؤں سے نجات بخشی۔ پس حقیقت یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کا عدل بجائے خود ہے اور رحم بجائے خود ہے۔ جولوگ اچھے کام کر کے اپنے تئیں رحم کے لائق بناتے ہیں ان پر رحم ہو جاتا ہے۔ اور جولوگ مارکھانے کے کام کرتے ہیں ان کو مار پڑتی ہے۔ پس عدل اور رحم میں کوئی جھگڑا نہیں گویا وہ دو نہریں ہیں جو اپنی اپنی جگہ پر چل رہی ہیں۔ ایک نہر دوسرے کی ہرگز مزاحم نہیں ہے۔ دنیا