کتاب البریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 65 of 630

کتاب البریہ — Page 65

روحانی خزائن جلد ۱۳ کتاب البرية کہ بچوں کی طرح گرد و غبار میں کھیلتے اور کوئلوں پر لیٹتے ہیں اور پھر آرزو کرتے ہیں کہ ہمارے کپڑے سفید ر ہیں۔ اور حقیقی نور کو تلاش نہیں کرتے اور پھر چاہتے ہیں کہ ظلمت سے نجات پاویں۔ حقیقی نور کیا ہے؟ وہ جوتسلی بخش نشانوں کے رنگ میں آسمان سے اتر تا اور دلوں کو سکینت اور اطمینان بخشتا ہے۔ اس نور کی ہر ایک نجات کے خواہشمند کوضرورت ہے۔ کیونکہ جس کو شبہات سے نجات نہیں اس کو عذاب سے بھی نجات نہیں۔ جو شخص اس دنیا میں خدا کے دیکھنے سے بے نصیب ہے وہ قیامت میں بھی تاریکی میں گرے گا۔ خدا کا قول ہے کہ مَنْ كَانَ فِي هَذِهِ أَعْلَى فَهُوَ فِي الْآخِرَةِ أَعمى ا اور خدا نے اپنی کتاب میں بہت جگہ اشارہ فرمایا ہے کہ میں اپنے ڈھونڈنے والوں کے دل نشانوں سے منور کروں گا۔ یہاں تک کہ وہ خدا کو دیکھیں گے اور میں اپنی عظمت انہیں دکھلا دوں گا یہاں تک کہ سب عظمتیں ان کی نگاہ میں بیچ ہو جائیں گی۔ یہی باتیں ہیں جو میں نے براہ راست خدا کے مکالمات سے بھی سنیں پس میری روح بول اٹھی کہ خدا تک پہنچنے کی یہی راہ ہے اور گناہ پر غالب آنے کا یہی طریق ہے۔ حقیقت تک پہنچنے کے لئے ضرور ہے کہ ہم حقیقت پر قدم ماریں۔ فرضی تجویز ہیں اور خیالی منصوبے ہمیں کام نہیں دے سکتے۔ ہم اس بات کے گواہ ہیں اور تمام دنیا کے سامنے اس شہادت کو ادا کرتے ہیں کہ ہم نے اس حقیقت کو جو ۴۳ خدا تک پہنچاتی ہے قرآن سے پایا ہم نے اس خدا کی آواز سنی اور اس کے پر زور بازو کے نشان دیکھے جس نے قرآن کو بھیجا۔ سو ہم یقین لائے کہ وہی سچا خدا اور تمام جہانوں کا مالک ہے۔ ہمارا دل اس یقین سے ایسا پُر ہے جیسا کہ سمندر کی زمین پانی سے۔ سو ہم بصیرت کی راہ سے اس دین اور اس روشنی کی طرف ہر ایک کو بلاتے ہیں ہم نے اس نور حقیقی کو پایا جس کے ساتھ سب ظلمانی پر دے اٹھ جاتے ہیں اور غیر اللہ سے در حقیقت دل ٹھنڈا ہو جاتا ہے۔ یہی ایک راہ ہے جس سے انسان نفسانی جذبات اور ظلمات سے ایسا باہر آ جاتا ہے جیسا کہ سانپ اپنی کینچلی سے۔ عیسائی مذہب ان نشانوں سے بکلی محروم ہے۔ دعوئی اتنا بڑا کہ ایک انسان کو خدا بنانا چاہتے ہیں اور ثبوت میں صرف قصے کہانیاں پیش کرتے ہیں ہاں بعض کہتے ہیں کہ انجیل کی تعلیم ا بنی اسرآئیل: ۷۳