کتاب البریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 64 of 630

کتاب البریہ — Page 64

روحانی خزائن جلد ۱۳ ۶۴ کتاب البرية لعنتوں کا مجموعہ تھی۔ لیکن جبکہ ہم دیکھتے ہیں کہ ہر ایک انسان کے گناہ اس کے ساتھ ہیں اور فطرت نے جس قدر کسی کو کسی جذبہ نفسانی یا افراط اور تفریط کا حصہ دیا ہے وہ اس کے وجود میں محسوس ہو رہا ہے گو وہ یسوع کو مانتا ہے یا نہیں تو اس سے ثابت ہوتا ہے کہ جیسا کہ لعنتی زندگی والوں کی لعنتی زندگی ان سے علیحدہ نہیں ہوسکی ایساہی وہ یسوع پر بھی پر نہیں سکی کیونکہ جب کہ لعنت اپنے محل پر خوب چسپاں ہے تو وہ یسوع کی طرف کیونکر منتقل ہو سکے گی۔ اور یہ عجیب ظلم ہے کہ ہر ایک خبیث اور ملعون جو یسوع پر ایمان لاوے تو اس کی لعنت یسوع پر پڑے اور اس شخص کو بری اور پاکدامن سمجھا جائے۔ پس ایسا غیر منقطع سلسلہ لعنتوں کا جو قیامت تک ممتد رہے گا اگر وہ ہمیشہ تازہ طور پر غریب یسوع پر ڈالا جائے تو کس زمانے میں اس کو لعنتوں سے سبکدوشی ہوگی کیونکہ جب وہ ایک گروہ کی لعنتوں سے اپنے تئیں سبکدوش کرلے گا تو پھر نیا آنے والا گر وہ جو اپنے ۲۲ خبیث وجود کے ساتھ نئی لعنتیں رکھتا ہے وہ اپنی تمام لعنتیں اس پر ڈال دے گا۔على هذا القياس اس کے بعد دوسرا گروہ دوسری لعنتوں کے ساتھ آئے گا تو پھر ان مسلسل لعنتوں سے فرصت کیونکر ہوگی؟ اس سے تو مانا پڑتا ہے کہ یسوع کے لئے وہ دن پھر کبھی نہیں آئیں گے جو اس کو خدا کی محبت اور معرفت کے نور کے سایہ میں رکھنے والے ہوں۔ پس ایسے عقیدہ سے اگر کچھ حاصل ہوا تو وہ یہی ہے کہ ان لوگوں نے ایک خدا کے مقدس کو ایک غیر منقطع ناپاکی میں ڈالنے کا ارادہ کیا ہے اور بدقسمتی سے اس اصل بات کو چھوڑ دیا ہے جس سے گناہ دور ہوتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ وہ آنکھ پیدا کرنا جو خدا کی عظمت کو دیکھے اور وہ یقین حاصل کرنا جو گناہ کی تاریکی سے چھوڑاوے۔ زمین تاریکی پیدا کرتی ہے اور آسمان تاریکی کو اٹھاتا ہے پس جب تک آسمانی نور جو نشانوں کے رنگ میں حاصل ہوتا ہے کسی دل کو نہ چھوڑاوے حقیقی پاکیزگی حاصل ہو جانا بالکل جھوٹ ہے اور سراسر باطل اور خیال محال ہے۔ پس گناہوں سے بچنے کیلئے اس نور کی تلاش میں لگنا چاہیے جو یقین کی کرار فوجوں کے ساتھ آسمان سے نازل ہوتا اور ہمت بخشا اور قوت بخشتا اور تمام شبہات کی غلاظتوں کو دھو دیتا اور دل کو صاف کرتا اور خدا کی ہمسائیگی میں انسان کا گھر بنادیتا ہے۔ پس افسوس ان لوگوں پر