کتاب البریہ — Page 60
روحانی خزائن جلد ۱۳ ۶۰ کتاب البرية تا بعض بیٹے جنات کے لئے مصلوب ہوں اور بعض انسانوں کے لئے اور بعض ان مخلوقات کے لئے جو دوسرے اجرام میں آباد ہیں۔ یہ اعتراض بھی ایسا تھا کہ ایک لحظہ کے لئے بھی اس میں غور کرنا فی الفور عیسائیت کی تاریکی سے انسان کو چھوڑا دیتا ہے۔ ایسا ہی یہ اعتراض کہ عیسائیوں کی تعلیم یہودیوں کی مسلسل تین ہزار برس کی تعلیم کے مخالف ہے جو ان کی کتابوں میں پائی جاتی ہے جس سے بچہ بچہ یہود کا واقف ہے۔ ایسا ہی یہ اعتراض کہ کفارہ اس وجہ سے بھی باطل ہے کہ اس سے یا تو یہ مقصود ہوگا کہ گناہ بالکل سرزد نہ ہوں اور یا یہ مقصود ہوگا کہ ہر ایک قسم کے گناہ خواہ حق اللہ کی قسم میں سے اور خواہ حق العباد کی قسم میں سے ہوں کفارہ کے ماننے سے ہمیشہ معاف ہوتے رہتے ہیں۔ سو پہلی شق تو صریح البطلان ہے کیونکہ یورپ کے مردوں اور عورتوں پر نظر ڈال کر دیکھا جاتا ہے کہ وہ کفارہ کے بعد ہرگز گناہ سے بچ نہیں سکے اور ہر ایک قسم کے گناہ یورپ کے خواص اور عوام میں موجود ہیں۔ بھلا یہ بھی جانے دونبیوں کے وجود کو دیکھو جن کا ایمان اور وں سے زیادہ مضبوط تھا وہ بھی گناہ سے بچ نہ سکے۔ حواری بھی اس بلا میں گرفتار ہو گئے۔ پس اس میں کچھ شک نہیں کہ کفارہ ایسا بند نہیں ٹھہر سکتا کہ جو گناہ کے سیلاب سے روک سکے۔ رہی یہ دوسری بات کہ کفارہ پر ایمان لانے والے گناہ کی سزا سے مستثنیٰ رکھے جائیں گے خواہ وہ چوری کریں یا ڈا کہ ماریں خون کریں یا بد کاری کی مکروہ حالتوں میں مبتلا ر ہیں تو خدا ان سے کچھ مواخذہ نہیں کرے گا یہ خیال بھی سراسر غلط ہے جس سے شریعت کی پاکیزگی سب اٹھ جاتی ہے اور خدا کے ابدی احکام منسوخ ہو جاتے ہیں۔ یہ تمام اعتراضات ایسے تھے کہ عیسائی صاحبوں سے ان کا جواب کچھ بھی بن نہیں سکتا تھا۔ علاوہ اس کے پادری صاحبوں کے لئے ایک اور مشکل یہ پیش آئی تھی کہ ہم نے ثابت کر دیا تھا۔ کہ علاوہ ان تمام مشرکانہ عقائد کے جو ان کے مذہب میں پائے جاتے ہیں اور علاوہ ایسی ایسی کچی اور خام باتوں کے کہ مثلاً انسان کو خدا بنانا اور اس پر کوئی دلیل نہ لانا جو ان کا طریقہ ہے ایک اور