کتاب البریہ — Page 59
روحانی خزائن جلد ۱۳ ۵۹ كتاب البرية بالا رہے گا۔ سو وہ پیشگوئی لاکھوں آدمیوں کے اقرار سے پوری ہوئی۔ یہاں تک کہ عیسائی پر چہ سول ملٹری گزٹ نے بھی اس کی شہادت دی ۔ اور اعجازی طور پر مضمون ہمارا غالب رہا۔ پس یہ شرمندگی حضرات عیسائیوں کے لئے کچھ تھوڑی نہیں تھی کہ ہماری پیشگوئیوں کی سچائی سے متواتر ان کو زخم پہنچے ۔ اور اس سے زیادہ ان کی ندامت کا یہ بھی موجب ہوا کہ اس عرصہ میں کئی عمدہ کتا بیں رڈ نصاری میں میں نے تالیف کیں جن سے ان کے عقائد کے بطلان کی بخوبی حقیقت کھل گئی۔ یہ تمام باتیں ایسی تھیں جن سے مجھے خود اندیشہ تھا کہ آخر کوئی جھوٹا مقدمہ میرے پر بنایا جائے گا۔ کیونکہ دشمن جب لا جواب ہو جاتا ہے تو پھر جان اور آبرو پر حملہ کرتا ہے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ اور آخر یہ خون کا مقدمہ میرے پر بنایا گیا اور ضرور تھا کہ اس میں محمد حسین بٹالوی اور آریہ بھی شامل ہوتے کیونکہ ان سب کو ذلت پر ذلت پہنچی اور خدا نے ان سب کا منہ بند کر دیا۔ مگر پادری صاحبوں کو سب سے زیادہ بڑھ کر جوش تھا کیونکہ میری کارروائی میں ان کے کروڑیا روپیہ کا نقصان ہے اور علاوہ آسمانی نشانوں کے میرے اعتراضات نے بھی ان کے مذہب کے تارو پود کو توڑ دیا ہے۔ چنانچہ وہ اعتراض جو ان کے اس عقیدہ پر کیا گیا تھا کہ تمام گناہگاروں کی لعنت مسیح پر آپڑی جس کا ماحصل یہ تھا کہ مسیح کا دل خدا تعالیٰ کی معرفت اور محبت سے بالکل خالی ہو گیا تھا اور در حقیقت وہ خدا کا دشمن ہو گیا تھا۔ یہ ایسا اعتراض تھا کہ عقیدہ کفارہ کو باطل کرتا تھا کیونکہ جبکہ لعنت اپنے مفہوم کے رو سے مسیح جیسے راستباز انسان پر ہرگز جائز نہیں تو پھر کفارہ کی چھت جس کا شہتیر لعنت ہے کیونکر ٹھہر سکتی ہے۔ ایسا ہی وہ اعتراض کہ خدا کا کوئی فعل اس کی قدیم عادت سے مخالف نہیں اور عادت کثرت اور کلیت کو چاہتی ہے۔ پس اگر در حقیقت بیٹے کو بھیجنا خدا کی عادت میں داخل ﴿۳۸﴾ ہے تو خدا کے بہت سے بیٹے چاہئیں تا عادت کا مفہوم جو کثرت کو چاہتا ہے ثابت ہو اور