کتاب البریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 58 of 630

کتاب البریہ — Page 58

روحانی خزائن جلد ۱۳ ۵۸ کتاب البرية کچھ بھی نہ دینا یہ تمام باتیں ایسی تھیں کہ آتھم کو عدالت کے رو سے ملزم کرتی تھیں اور ان بیہودہ افتراؤں کا بار ثبوت اس کی گردن پر تھا۔ اور اس کی بریت کم سے کم قسم کھانے میں تھی جس سے وہ ایسا بھا گا جیسا ایک شخص شیر سے بھاگتا ہے۔ اور پھر اس پیشگوئی کے دوسرے حصہ نے اور بھی ہمارے الہام کی سچائی پر روشنی ڈالی کیونکہ دوسری پیشگوئی میں یہ تھا کہ اگر آ تھم نے الہامی شرط سے فائدہ اٹھا کر پھر اس سچی گواہی کو چھپایا تو وہ جلد فوت ہو جائے گا۔ اور اس کی زندگی کے دن بہت تھوڑے ہوں گے۔ اور یہ پیشگوئی بھی اشتہاروں کے ذریعہ سے لاکھوں انسانوں میں مشتہر کی گئی تھی۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ اور آتھم ہمارے آخری اشتہار سے چھ ماہ کے اندر فوت ہو گیا۔ اور ان تمام باتوں نے پادری صاحبوں کو بہت شرمندہ کیا۔ کیونکہ آتھم نے نہ تو قسم کھائی اور نہ اپنے جھوٹے بہتانوں کو بذریعہ نالش ثابت کیا۔ اور نہ ان بہتانوں کا کچھ ثبوت دیا جو الہامی شرط پر پردہ ڈالنے کے لئے اس نے تراشے تھے۔ اس لئے یہ تمام حرکات اس کی پادریوں کی سخت ندامت کی موجب ہوئیں۔ علاوہ اس کے عیسائیوں کو یہ اور شرمندگی دامنگیر ہوئی کہ آتھم ہماری دوسری پیشگوئی کے مطابق اخفائے شہادت کے بعد بہت جلد فوت ہو گیا۔ پھر اس شرمندگی پر ایک اور شرمندگی یہ پیش آئی کہ لیکھرام ہماری پیشگوئی کے مطابق میعاد کے اندر مارا گیا۔ اور جیسا کہ پیشگوئی میں تصریح تھی کہ وہ عید کے دوسرے دن مارا جائے گا ایسا ہی وقوع میں آیا۔ یہ تمام باتیں ایسی تھیں کہ حضرات پادری صاحبان کو ان سے بڑی کوفت پہنچی تھی۔ یہ لوگ ہمیشہ بازاروں میں وعظ کے طور پر کہتے تھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی پیشگوئی ظہور میں نہیں آئی اور نہ کوئی معجزہ ہوا۔ مگر بر خلاف اس کے خدا نے ان کو متواتر معجزات بھی دکھلائے اور پیشگوئیاں بھی مشاہدہ کرائیں ۔ انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ جلسہ مذاہب لاہور میں قبل از وقت ہم نے اشتہار دیا تھا کہ خدا مجھے فرماتا ہے کہ تیرا مضمون