خطبة اِلہامِیّة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 43 of 530

خطبة اِلہامِیّة — Page 43

روحانی خزائن جلد ۱۶ ۴۳ خطبه الهاميه عَنْ هَذِهِ الْوَصَايَا - وَلَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِيْنَ نَسُوا فراموش نکنید کومت بھلا و و ہمچو آن مردم مشوید که اور ان لوگوں کی طرح مت ہو جاؤ جنہوں نے رَبَّهُمْ وَالْمَنَايَا - وَقَدْ أُشِيْرَ إِلَى هَذَا السِّرِّ خدائی خود را و موت خود را فراموش کرده اند و به تحقیق اشاره کرده شده است اپنے خدا اور اپنی موت کو بھلا رکھا ہے اور اس پوشیدہ بھید کی طرف الْمَكْتُومِ - فِي كَلَامِ رَبِّنَا الْقَيُّوْمِ - فَقَالَ وَهُوَ ) در کلام خدائے قیوم سوئے ایں راز پوشیدہ ۔ خدا تعالٰی کی کلام میں اشارت کی گئی ہے ۔ ہے۔ پس او تعالی گفت و او خدا جو چنانچه اَصْدَقُ الصَّادِقِينَ - قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي که بگو که به تحقیق نماز من و عبادت من و قربانی من اصدق الصادقین است اصدق الصادقین ہے اپنے رسول کو فرماتا ہے کہ ان لوگوں کو کہہ دے کہ میری نماز اور میری عبادت وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ - فَانْظُرْ و زندگی من و مردن من برائے خدائے رب عالمیان است پس بہ ہیں اور میری قربانی اور میری زندگی اور میری موت سب اس خدا کیلئے ہے جو پروردگار عالمیاں ہے پس دیکھ كَيْفَ فَسَّرَ النُّسُكَ بِلَفْظِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ که چگونه لفظ تشک را بلفظ محیا و ممات تفسیر کرده کہ کیونکر نسک کے لفظ کی حیات اور ممات کے لفظ سے تفسیر کی ہے وَأَشَارَ بِهِ إِلَى حَقِيقَةِ الْأَضْحَاةِ - فَفَكِّرُوْا فِيْهِ و بدیں تفسیر سوئے حقیقت قربانی اشارت نموده ۔ پس دریں نکته بیندیشید اور اس تفسیر سے قربانی کی حقیقت کی طرف اشارہ کیا ہے پس اے عقلمندو ! الانعام : ١٦٣