خطبة اِلہامِیّة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 20 of 530

خطبة اِلہامِیّة — Page 20

روحانی خزائن جلد ۱۶ ۲۰ خطبه الهاميه آب اے دوستو ! یہ منارہ اس لئے طیار کیا جاتا ہے کہ تا حدیث کے موافق مسیح موعود کے زمانہ کی یادگار ہو اور نیز وہ عظیم پیشگوئی پوری ہو جائے جس کا ذکر قرآن شریف کی اس آیت میں ہے کہ سُبْحَنَ الَّذِي أَسْرَى بِعَبْدِهِ لَيْلًا مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ حاشيه لائق ہے کہ تمام میناروں سے اونچا ہو کیونکہ یہ منارہ مسیح موعود کے احقاق حق اور صرف ہمت اور اتمام محبت اور اعلاء ملت کی جسمانی طور پر تصویر ہے پس جیسا کہ اسلامی سچائی مسیح موعود کے ہاتھ سے اعلیٰ درجہ کے ارتفاع تک پہنچ گئی ہے اور مسیح کی ہمت ثریا سے ایمان گم گشتہ کو واپس لا رہی ہے اسی کے مطابق یہ مینار بھی روحانی امور کی عظمت ظاہر کر رہا ہے۔ وہ آواز جو دنیا کے ہر چہار گوشہ میں پہنچائی جائے گی وہ روحانی طور پر بڑے اونچے مینار کو چاہتی ہے۔ قریبا بیس برس ہوئے کہ میں نے اپنی کتاب براہین احمدیہ میں خدا تعالیٰ کا یہ کلام جو میری زبان پر جاری کیا گیا لکھا تھا۔ یعنی یہ کہ انا انزلناه قريبًا من القاديان۔ وبالحق انزلناه وبالحق نزل صدق الله ورسوله وكان امر الله مفعولا ۔ دیکھو براہین احمدیہ صفحہ ۴۹۸۔ یعنی ہم نے اس مسیح موعود کو قادیان میں اتارا ہے اور وہ ضرورت حقہ کے ساتھ اتارا گیا اور ضرورت حقہ کے ساتھ اترا۔ خدا نے قرآن میں اور رسول نے حدیث میں جو کچھ فرمایا تھا وہ اُس کے آنے سے پورا ہوا ۔ اس الہام کے وقت جیسا کہ میں کئی دفعہ لکھ چکا ہوں مجھے کشفی طور پر یہ بھی معلوم ہوا تھا کہ یہ الہام قرآن شریف میں لکھا ہوا ہے اور اس وقت عالم کشف میں میرے دل میں اس بات کا یقین تھا کہ قرآن شریف میں تین شہروں کا ذکر ہے یعنی مکہ اور مدینہ اور قادیاں کا۔ اس بات کو قریباً ہمیں برس ہو گئے جبکہ میں نے براہین احمدیہ میں لکھا تھا اب اس رسالہ کی تحریر کے وقت میرے پر یہ منکشف ہوا کہ جو کچھ براہین احمدیہ میں قادیان کے بارے میں کشفی طور پر میں نے لکھا یعنی یہ کہ اس کا ذکر قرآن شریف میں موجود ہے در حقیقت یہ صحیح بات ہے کیونکہ یہ یقینی امر ہے کہ