خطبة اِلہامِیّة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 14 of 530

خطبة اِلہامِیّة — Page 14

روحانی خزائن جلد ۱۶ ۱۴ خطبه الهاميه از مقام بشپس بورن واقعہ لاہور مورخه ۱۵ اگست ۱۹۰۱ء جناب ترجمه خداوند یسوع مسیح ہرگز شارع نہ تھا جن معنوں میں کہ حضرت موسیٰ صاحب شریعت تھا۔ جس نے ایک کامل مفصل شریعت ایسے امور کے متعلق دی کہ مثلا کھانے کے لئے حلال کیا ہے اور حرام کیا ہے وغیرہ۔ کوئی شخص انجیل کو بغیر غور کے سرسری نگاہ سے بھی دیکھے تو اس پر ضرور ظاہر ہو جائے گا کہ یسوع مسیح صاحب شریعت نہ تھا۔ موسیٰ کی شریعت کھانے وغیرہ امور کے متعلق اس واسطے نازل ہوئی تھی کہ انسان کا دل تربیت پا کر شریعت کے مفہوم کو پالے اور رفتہ رفتہ مقدس اور غیر مقدس کو سمجھنے لگے کیونکہ انسان اس وقت تعلیم و مذہب کی ابتدائی منزل میں تھا۔ اس لئے انجیل میں کہا گیا ہے کہ موسیٰ کی شریعت ایک اُستاد تھی جو ہمیں مسیح تک لائی کیونکہ اس شریعت نے انسان کے دل میں ایک ایسی فطرت پیدا کر دی جو کہ ترقی پا کر صرف بیرونی اور رسمی اعمال پر قانع نہ ہوئی بلکہ دل اور روح کی اندرونی راستی کی تلاش کرنے والی ہوئی۔ اس راستی کے لانے کے واسطے مسیح آیا۔ اپنی زندگی اور موت کے ذریعہ سے اُس نے لوگوں کے دلوں میں یہ سمجھ ڈال دی کہ گناہ کیا ہے اور وہ کیسا خوفناک ہے اور گناہوں کی معافی حاصل کر کے اور روح القدس کے عطیہ سے ہم تقدس کی نئی زندگی پا کر اور خدا اور انسان کے درمیان محبت قائم کر کے خدا کو پھر راضی کر سکتے ہیں۔ متی باب ۵ وے میں پہاڑی تعلیم کے پڑھنے سے معلوم ہو سکتا ہے کہ اس نئی زندگی کا طرز طریق کیا تھا۔ دستخط جے اے لیزر ائے بشپ لاہور )