خطبة اِلہامِیّة — Page 301
روحانی خزائن جلد ۱۶ خطبه الهاميه من الأوقات۔ أكـــان هـذا الأمـر غـيـر مـمـكـن إلا آیا ان کیا امر واسطه بغیر فردوسی بواسطة بعض أفراد الأمة ؟ ففكر إن كنتَ از امت افراد امت ممکن نبود پس اندیشہ کے آدمی کے واسطه ممکن نہ تھا۔ بکن پس سوچ اسیک سے ما مَسَّك طائف من الجنة أما ترى أن النبي اگر دیوانه نیستی آیا غور نمی کنی چوں اگر دیوانہ نہیں۔ کیا تو غور نہیں کرتا که جب الله عليه لم لما مات تيسر له علیہ نبی کریم صلی اللہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس جہاں ازیں جهان برفتند آنجناب را چلے گئے تو آنجناب کو ނ قاء عيسى في كل حين من الأحيان، موقعہ ملاقات حضرت عیسی ور ہر وقت دست بداد حضرت عیسی کی ملاقات کا موقعہ ہر وقت ملتا تھا۔ و قد رأى عيسى ليلة الإسراء ، ، فـكـــانــت أبــواب پیش ازین در شب اسراء باہم تلاقی بہم رسیده بود و ازین سبب پہلے اسراء کی رات میں آپس میں ملاقات ہوئی تھی اور اس سبب سے السَّـ فتوحةً من غير توسط أبناء ور سلام بغیر واسطه ابنائے اس زمان شده مفتوح بود سلام کا دروازہ بغیر اس زمانہ کے لوگوں کے واسطہ کے مفتوح ہو گیا تھا