خطبة اِلہامِیّة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 258 of 530

خطبة اِلہامِیّة — Page 258

روحانی خزائن جلد ۱۶ ۲۵۸ خطبه الهاميه هو نبينا صلى الله عليه و سلم، والنسبة بينـي نبی کریم ماست صلی اللہ علیہ وسلم و نسبت من با جناب وے ہمارے نبی کریم ہیں صلی اللہ علیہ وسلم اور میری نسبت اُس کی وبينه كنسبة من ۔ وتعلم، وإليه أشار نسبت اُستاد و شاگرد است و بسوئے ہمیں سخن جناب کے ساتھ اُستاد اور شاگرد کی نسبت ہے اور خدا تعالیٰ کا سبحانه في قوله " وَأَخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ ! اشاره قول ے کند قول خداوندی وَأَخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ وَآخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ 66 ۱) ففَكِّرُ في قوله «آخَرِينَ»۔ وأنزل اللـه عـلـى پس لفظ اور فکر بکنید ۔ آخرین و خدا بر من اسی بات کی طرف اشارہ کرتا ہے پس آخرین کے لفظ میں فکر کرو۔ اور خدا نے مجھ فيض هذا الـرسـول فـأتـمـه وأكمله، وجذب و آں را فیض ایں رسول کریم فرود آورد کامل گردانید اُس رسول کریم کا فیض نازل فرمایا اور اس کو کامل بنایا اور اس إليَّ لطفه وجُودَه، حتى صار وجودى وجوده، لطف وجود آن نبئ کریم را بسوئے من بکشید تا اینکه وجود من وجود او گردید نبی کریم کے لطف اور جود کو میری طرف کھینچا یہاں تک کہ میرا وجود اس کا وجود ہوگیا فمن دخل في جماعتي دخل في صحابة پس آنکه اور جماعت من داخل شد في الحقيقت ور پس وہ جو میری جماعت میں داخل در حقیقت ہوا میرے الجمعة ٤