خطبة اِلہامِیّة — Page 251
روحانی خزائن جلد ۱۶ ۲۵۱ خطبه الهاميه أعلم ما لا تعلمون ۔وقالوا قُتِل فلان مظلوما، مے دانم آنچه شما نمیدانید۔ و گفتند کہ فلاں مظلوم شد کشته وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے اور کہا کہ فلاں مظلوم مارا گیا وأُريد قتل فلان مـن الــمــنــصــــريــن، ونسبوا و قتل فلاں از نصاری اراده کرده شده است و ارادہ کیا گیا ہے۔ اور فلانے عیسائی کے قتل کا قتل را بمن اور قتل کو القتل إلى ليُدخِـلـونـي فـي الـذيـن يفسدون في نسبت دادند تا مرا آنکساں داخل کنند ور اور زمین فساد میری طرف منسوب کیا تا کہ مجھے اُن لوگوں میں داخل کریں جو زمین میں فساد الأرض ويقتلون الناس ظـلـمـا وفسادًا، والله برپا ہے کنند و از بے داد کرتے ہیں اور ظلم اور فساد سے , فساد مردم را می کشند و خدا لوگوں کو مار ڈالتے ہیں اور خدا يعلم أنى برىء منها، وإنّ كلماتهم هذه ليست می داند که من ازین با بری هستم و این گفتار ہائے او شاں نسبت بمن بجز جانتا ہے کہ میں اُن سے بری ہوں اور اُن کی یہ باتیں جو میری نسبت ہیں بالکل جھوٹی إلا بهتان على، والـلـه عـلـيـم بالظالمين، وهناك بہتان دروغ نیست و خدا ظالمان را نیکو می داند و از بینجاست اور بہتان ہے اور خدا ظالموں کو خوب جانتا ہے۔ اور اسی لئے الله إلى حكايةً عن قولهم أتجعل فيها 66 خدا سوئے من از زبان ایشاں وحی کرد که آیا تو خلیفہ مے کنی خدا نے میری طرف انہی کی زبانی وحی کی کہ ”کیا تو خلیفہ بناتا ہے