خطبة اِلہامِیّة — Page 244
روحانی خزائن جلد ۱۶ ۲۴۴ خطبه الهاميه وقد مضى آخر الألف السادس، وما بقى وقت چنانچه تحقیق آخر ہزار ششم بگذشت و بعد اور اس کے ازال بعد ہزار ششم کا آخر گزر گیا۔ نزول المسيح بعده ، وإن في هذا الآية لقوم برائے نزول مسیح هیچ وقتے و موقعے نماند و البته در ایں برائے طالبان نشانی می باشد مسیح کے نازل ہونے کے لئے کوئی وقت اور موقعہ نہ رہا اور البتہ اس میں طالبوں کے لئے ایک يطلبون ۔ وكان هذا من معالم الموعود في و این امر در نشان ہے اور یہ از بود قرآن نشانہائے آں موعود بات قرآن میں اس موعود کی نشانیوں میں سے تھی القرآن ويعلمها المتدبّرون ۔ وإن الألف وایس تدبر کنندگان ہزار ششم البته اور اس کو تدبر کرنے والے جانتے ہیں اور البتہ چھٹا ہزار ~ را ے دانند و السادس كاليوم السادس الذي خُلق فيـــه چون آن روز ششم است که آدم پیدا کرده شده بود اس چھٹے دن کی طرح ہے جس میں آدم پیدا کیا گیا تھا درو آدم، وإنّ يومًا عند ربک کــــــــألف چنانکه خداوند حکیم جیسا کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایک دن تیرے پروردگار کے نزدیک نے فرماید که یک یوم نزد پروردگار تو سنة مما تعدون۔ چوں ہزار سال است از آنچه شمار می کنید ۔ ہزار سال کی طرح ہے تمہارے حساب سے ۔