خطبة اِلہامِیّة — Page 237
روحانی خزائن جلد ۱۶ ۲۳۷ خطبه الهاميه يتصلّفون وبالقرآن لا يؤمنون وتكذب اوشاں لاف بیہودہ می زنند و با قرآن ایمان ندارند و زبان اوشان بیہودہ لاف مارتے ہیں اور قرآن پر ان کا ایمان نہیں اور ان کی زبان لسنهم، وليس في قلوبهم إلا الدنيا، وإليها حرف دروغ مے زند و در دل اوشاں بغیر حبّ دنیا نیست و بالكليه به دنیا جھوٹ بولتی اور ان کے دل میں دنیا کی محبت کے سوا اور کچھ نہیں اور اس کی ہے يتمايلون ويرون أن الملك قد زُلزل و مائل ہستند ۔ و ببینند که ملک ور زلزلہ و جنبیدن آمده طرف مائل ہیں اور دیکھتے ہیں کہ ملک میں زلزلہ پڑ گیا ہے۔ اور حلَّ السّامُ وهدر الــحــمــام ثم لا يرجعون مرگ عام نازل شده و موت ہمچو کبوتر آواز با برداشته باز رجوع نمی آرند عام موت پڑ رہی ہے اور موت کبوتر کی طرح آوازیں کر رہی ہے پھر رجوع نہیں کرتے أفلم ينظروا إلى مفاسد الأرض فتكون لهم کاش نگا ہے پر فساد ہائ زمین کاش! کردند و تا زمین کے فسادوں کو دیکھتے ان کی آنکھیں قلوب يعقلون بها، ولكنهـم قـوم يستكبرون دل دانا و چشم بینا بادشال دست دادے و لیکن اینها قومے گردن کش هستند اور عقل آتی لیکن کھلتیں ایک متکبر قوم ہے۔ يكفرون بآدم هذا الزمان وقد خُلق على اس زمان پر پشت زمین آیا انکار آدم می کنند حالانکہ کیا اس زمانہ کے آدم کا کفر کرتے ہیں حالانکہ زمین کی پیٹھ پر ۱۵۵