خطبة اِلہامِیّة — Page 230
روحانی خزائن جلد ۱۶ ۲۳۰ خطبه الهاميه أبو بكر كلامهم وما كانوا يزعمون، فقام على حضرت ابو بکر کلام ایشاں شنید و بر پندار ایشان آگاه شد پس بر منبر بالا حضرت ابو بکر نے ان کا کلام سنا اور ان کے گمان پر آگاہ ہوئے تب منبر پر المنبر واجتمع الصحابة حوله وتلا الآية اصحاب بر گرد وے گرد آمدند و این آیت مذکوره را کھڑے ہوئے اور صحابہ ان کے گرد جمع ہوئے پھر آیت مذکورہ المذكورة وقال اسمعون ۔ وكانوا مجتمعين برخواند , فرمود از من بشنوید و ہمگناں اور فرمایا سنو! اور کے سب سب كلهم لموت رسول الله صلى الله عليه و سلم موت رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم جمع آمده بودند رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کی موت پر جمع تھے۔ فسمعوا وتأثروا بأثر عجيب كأن الآية نزلت چوں ایس آیت را شنیدند تاثیر شگرف در دل یافتند و پنداشتند که گوئی ایس آیت جب یہ آیت سنی تو عجیب تاثیر اپنے دلوں میں پائی اور سمجھے کہ گویا یہ آیت آج ہی اتری ہے في ذالك اليوم وكانوا يبكون ويصدقون ہمدراں روز نازل شد و بر شنیدنش گریه آغاز کردند و تصدیق فرمودند و انہوں نے رونا شروع کیا اور تصدیق کی سن وما بقى أحد منهم فى ذالك اليوم إلا أنه آمن روز شخصے نماند که از دل بایں اس دن ایسا کوئی شخص نہ رہا جو اس پر ایمان دراں = ایمان نیاورد که : لایا ہو کہ