خطبة اِلہامِیّة — Page 226
روحانی خزائن جلد ۱۶ ۲۲۶ خطبه الهاميه وكانوا يعرفونه ۔ هيهات هيهات لما تزعمون ! و شناسائے او بودند بریں گمان که افسوس ! می کنید اور اس کے پہچاننے والے تھے اس گمان جو تم کرتے ہو افسوس ہے۔ وشتان بين الحق وبيــن هـذه الـمـفتــريــات و درمیان حق و این مفتريات فرقے بسیار است ۔ حق میں اور ان افتراؤں میں پڑا فرق ہے۔ أما بقى عندكم مثقال ذرّة من عقل به تعقلون؟ آیا ذره از عقل اور سر شما باقی نیست که با آن مغز سخن را بفهمید کیا ذرہ سی عقل بھی تمہارے سر میں باقی نہیں رہی جس ۔ بات کی تہ کو پہنچ سے جاؤ بل هذه القصص خرافات لا أصل لها، ولا تقبلها بلکہ ایں ہمہ افسانہ ہائے بیہودہ هستند که هیچ اصلی ندارد و قصے بیہودہ سب ہیں ان کی کچھ اصلیت نہیں اور الفطرة الصحيحة، ولا توجد إليها الإشارة الجليّة و فطرت صحیحہ از قبول آنها سرباز زند درباره اینها اشاره پوشیده صحیحہ ان کو قبول نہیں کرتی اور ان کے بارہ میں کوئی پوشیدہ أو الخفيّة في كتاب الله ولا في أثر رسوله، و نه آشکار اور فال ور , شود کتاب اللہ یافتہ حدیث رسول نہ در اشاره قرآن شریف میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذين يتبعونها لا يتبعون إلا ۔ ـرا وے موجود است۔ پس آنانکه پیروی اینها می کنند فی الحقیقت پیروی دروغ بے فروغ حدیث میں پایا نہیں جاتا۔ پس جو لوگ ان کی پیروی کرتے ہیں وہ دراصل جھوٹ کی پیروی کرتے ہیں