خطبة اِلہامِیّة — Page 225
روحانی خزائن جلد ۱۶ ۲۲۵ خطبه الهاميه كـالـمـكـنـون؟ وكان المصلوبون لا يموتون إلا إلى و پوشیده بماند چنین بود که مصلوب بر صلیب تا پوشیدہ رہی مصلوب صلیب روز تین دن تک بلکہ تین دن پر ނ ثلاثة أيام أو يزيدون فكانت المهلة كافية، بلکہ زیادہ ازاں میماند ن مرد پس این قدر مہلت برائے ایں تحقیق زیادہ تک زندہ رہ سکتا تھا۔ پس اس قدر مہلت اس تحقیق کے لئے فاسأل الـذيـن يـصـلبــون عــدوا مــن أعـداء کافی بود اکنوں ازاں کسان که دشمن را از دشمنان عیسی صلیب مے دهند کافی تھی۔ اب ان لوگوں سے جنہوں نے عیسی کے ایک دشمن کو سولی دیا پوچھو عیسى كيف سكت المصلوب إلى هذا الأمد پیر سید کہ آں مصلوب تا اینقدر مدت چگونه خاموش ماند وہ مصلوب اتنے کیونکر چپ رہا۔ دنوں العـاقـلـون؟ ألم يبق لــــه شـهـداء (١٦) را عاقلاں ے پذیرند آیا برائے او گواہاں از اسے قبول کرتے ہیں۔ کیا اس کے من أُمّه وزوجه وإخـــوانـــه وجـيـرانـــه وأحبـابـه مادر و زن و برادرال و ہمسائیگان " اس کی ماں اور بیوی اور بھائی اور ہمسائے اور دوستان دوست وأصــحـــابــه ومـن الـذيـن كـان أودعهم أسراره نیز آن کساں ہم نماندند که رازدار بنے۔ اور کیا انہوں نے بھی گواہی نہ دی جو اس کے رازدار و یاران وے نماندند و لواه نہ