خطبة اِلہامِیّة — Page 221
روحانی خزائن جلد ۱۶ ۲۲۱ خطبه الهاميه إلا وتغضبون على أنفسكم وتتندمون مگر آنکه تو تم کو و پشیمان خواهید شد و بر جان ہائے خود خشمناک خواهید شد اپنے اوپر سخت غصہ آئے گا اور پچھتاؤ گے اور وترونها عذابا شديدا في كل حين تقرء ون ۔ ہر وقتے کہ تلاوت آن خواهید کرد جان شما ازاں عذاب شدید محسوس خواهد کرد جس وقت اسے پڑھو گے تمہاری جان اس سے سخت عذاب محسوس کرے گی۔ فحينئذ تحترق قـلـوبـكـم بلطى الحسرة و و دران وقت دلہائے شما از آتش حسرت کباب گردد اس وقت تمہارے دل حسرت کی آگ و سے کباب ہوں گے اور ربما تودون لو كنتم تتركون۔ بسا اوقات آرز و خواهید کرد که کاش کسے از ماسوره فاتحہ را نخواندے۔ اکثر چاہو گے کہ کاش کہ ہم سورۃ فاتحہ کا پڑھنا چھوڑ دیتے۔ ور الْبَابُ الرَّابِعُ إن الذين يزعمون أن عيسى صعد إلى (۱۳۳) بر آنان که پندارند که عیسی علیہ السلام آسمان رفت گمان ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر گئے جن کا یہ السماء ليس عندهم سلطان وإن هم إلا يكذبون ۔ دست شاں دلیلی نیست بلکه ایشان دروغ ے زنند وہ ان کے ہاتھ میں کوئی دلیل نہیں بلکہ جھوٹ بولتے ہیں۔