خطبة اِلہامِیّة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 219 of 530

خطبة اِلہامِیّة — Page 219

روحانی خزائن جلد ۱۶ ۲۱۹ خطبه الهاميه كما أنتم تزعمون ۔ وقد لعنتم مسيحا جاء كم همچناں کہ گمان می کنید و شما براں مسیح لعنت کرده اید که از شما نزد شما جیسا کہ تم گمان کرتے ہو اور ایک مسیح تو تمہیں میں سے تمہارے پاس آچکا منكم، وأتممتم عليه ما كُتِبَ في كتاب الله، فهو آمد و پیشگوئی قرآن اور تم نے اس پر وہ را برو با تمام رسانیده اید پیشگوئی پوری کر دی جو سورۃ فاتحہ میں تھی المسيح الموعود إن كنتم تتـفـكـرون پس ہاں مسیح موعود پس وہی مسیح موعود ہے جس پر است وہ اگر فکر پیشگوئی پوری ہو کنید گئی۔ سيقولون إنا لا نحضره إلا تذللا وطاعة فكيف ایشان خواهند گفت که ما بکمال فروتنی و فرمان پذیری پیش او حاضر شویم کہیں گے کہ ہم پوری خاکساری اور عاجزی سے اس کے پاس حاضر ہوں گے پھر کیونکر ہو سکتا نكفّره ونؤذيه وإنا به مؤمنون۔ قُل هذا قدر من الله پس چگونه ممکن است که او را کافر گوئیم و آزارش بدهیم در حالیکه ما با اوایمان بیاوریم۔ بگو ایں ہے کہ ہم اسے کافر کہیں اور ستائیں حالانکہ ہم اس پر ایمان لائیں۔ کہہ دے کہ یہ كُتِبَ على حزب مــنـكـم فـي الـفـاتـحة، در سورة فاتحه نوشته شده تقدیر خداوندی است که در حق گروهی از شما خدا کی تقدیر ہے جو تمہارے میں سے ایک گروہ کی نسبت سورۃ فاتحہ میں لکھی گئی ہے۔ النصارى و لعنة من المسلمين الذين يكفرونه عند نزوله و يكذبون۔ فكان السر از طرف نصاری و لعنتی از طرف آں مسلماناں کہ تکذیب و تکفیر او خواهند کرد۔ پس گویا در نازل کردن عیسی علیہ السلام في انزال عيسى هو تكميل امر اللعن وادخال المسلمين في الذين يلعنون۔ منه ہمیں رازی است که تا امر لعنت را مکمل کرده شود و مسلمانان نیز در ال گروه داخل شوند که بر ولعنت می فرستند - منه بقية الحاشية