خطبة اِلہامِیّة — Page 219
روحانی خزائن جلد ۱۶ ۲۱۹ خطبه الهاميه كما أنتم تزعمون ۔ وقد لعنتم مسيحًا جاء كم همچناں کہ گمان می کنید و شما براں مسیح لعنت کرده اید که از شما نزد شما جیسا کہ تم گمان کرتے ہو اور ایک مسیح تو تمہیں میں سے تمہارے پاس آچکا منكم وأتممتم عليه ما كُتِبَ في كتاب الله، فهو و پیشگوئی قرآن را برو با تمام رسانیده اید اور تم نے اس پر پیشگوئی پوری کر دی جو سورۃ فاتحہ میں تھی وہ الموعود إن كنتم تتفكرون پس ہماں مسیح موعود است اگر فکر ہے جس وہ پیشگوئی پوری ہو گئی۔ پس وہی مسیح موعود Я سيقولون إنا لا نحضره إلا تذلّلا وطاعة فكيف ایشان خواهند گفت که ما بکمال فروتنی و فرمان پذیری پیش او حاضر شویم کہیں گے کہ ہم پوری خاکساری اور عاجزی سے اس کے پاس حاضر ہوں گے پھر کیونکر ہو سکتا نكفّره ونؤذيه وإنّا به مؤمنون۔ قُلُ هذا قدر من الله پس چگونه ممکن است که او را کافر گوئیم و آزارش بدهیم در حالیکه ما با اوایمان بیاوریم۔ بگو ایس ہے کہ ہم اسے کافر کہیں اور ستائیں حالانکہ ہم اس پر ایمان لائیں۔ کہہ دے کہ یہ كُتِبَ على حزب منكم في الفاتحة تقدیر خداوندی است که در حق گروهی از شما ور سورة فاتحه نوشته شده خدا کی تقدیر ہے جو تمہارے میں سے ایک گروہ کی نسبت سورۃ فاتحہ میں لکھی گئی بقية الحاشية ہے۔ النصارى و لعنة من المسلمين الذين يكفرونه عند نزوله و يُكذِّبون۔ فكان السر از طرف نصاری ولعنتے از طرف آں مسلماناں کہ تکذیب و تکفیر او خواهند کرد ۔ پس گویا در نازل کردن عیسی علیہ السلام في انزال عيسى هو تكميل امر اللعن وادخال المسلمين في الذين يلعنون۔ منه ہمیں رازے است که تا امر لعنت را مکمل کرده شود و مسلمانان نیز در ال گروه داخل شوند که بر ولعنت میفرستند ۔ منہ