خطبة اِلہامِیّة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 213 of 530

خطبة اِلہامِیّة — Page 213

روحانی خزائن جلد ۱۶ الله خطبه الهاميه رسله، فما لكم لا تفهمون؟ اتركوا الفاتحة، که رسولان خود را گویائی بخشید پس چرا نمی فهمید اکنوں یا فاتحه را بگذارید جس نے رسولوں کو گویائی عطا فرمائی۔ پس کیوں نہیں سمجھتے۔ اب یا تو فاتحہ کو چھوڑو أو اعملوا بها حياءً من الله إن كنتم قوما تتقون یا شرم از خدا کرده عمل بال کنید اگر قومے یا خدا سے شرم کر کے اس پر عمل کرو۔ اگر تم خدا سے ڈرنے والی أتقرء ونها وهي لا تجاوز حناجركم أيها المراء ون؟ خدا ترس هستید چیست که فاتحه را می خوانید و آن از گلوئے شما نمی گذرد قوم ہو۔ کیا بات ہے کہ فاتحہ کو پڑھتے ہو اور وہ تمہارے گلے سے نیچے نہیں اترتی وإن المغضوب عليهم هم اليهود اے ریا کاراں و ثابت شده که مغضوب علیہم اے ریا کارو! اور ثابت ہوا مغضوب علیہم که الذين حذركم الله من مضاهاتهم، الذين فرّطوا ہماں یہود هستند که خدا شما را از مشابه گردیدن باوشاں ترسانید آناں کہ وہی یہود ہیں جن کی طرح ہونے سے خدا نے تم کو ڈرایا اور جنہوں نے في أمر عيسى، فاسألوا أهل الذكر إن كنتم از درباره عیسی تفریط کردند پس اگر علم ندارید اہل ذکر عیسی کے بارے میں تفریط کی۔ پس اگر علم نہیں رکھتے تو علم والوں سے لا تعلمون أتنتظرون من دوني مسيحا پرسید آیا بعد از من انتظار مسیح می کشید پوچھو۔ کیا میرے سوا ایسے مسیح کا انتظار کرتے ہو