خطبة اِلہامِیّة — Page 199
روحانی خزائن جلد ۱۶ ۱۹۹ خطبه الهاميه أتـمـمـتـمـوه بألسنكم أيها السالقون؟ ألا تأخذكم که خود با زبان ہائے خود وے را با تمام رسانیده اید آیا شرم دامن شما را پورا کیا جھٹلاتے ہو۔ کیا تم الحياء أنكم تدعون ربكم في الفاتحة أن يدخلكم ور نمی گیرد که اور فاتحہ از خدا می خواهید که شما را شرم نہیں آتی کہ فاتحہ میں اپنے خدا سے چاہتے ہو کہ تم کو میری جماعت في جماعتي ثم تعرضون؟ وكنتم تقولون لا (۱۲۷) جماعت من داخل بفرماید باز رو می گردانید و می گفتید که بغیر شما میں داخل فرمادے پھر منہ پھیرتے ہو۔ اور تم کہتے تھے کہ بغیر صلاة إلا بالفاتحة فلا تكونوا أوّل كافر بها أيها فاتحہ بیچ نماز درست نیست اکنوں اے موحداں خود شما اول کافر بال مشوید فاتحہ کوئی نماز درست نہیں۔ اب اے موحد و! تم خود سب سے پہلے اس کا کفر مت کرو الموحدون۔ والعجب منكم كل العجب أنكم تقرء ون حیلے عجیب بڑا تعجب است ہے این دعا را پانچ وقت هذا الدعاء في السبع المثاني مع فهم المعاني في و فاتحہ در پنجوقت ہے خوانید اش معنے ے فہمید دعا کو فاتحہ میں پڑھتے اور اس کے معنے بھی سمجھتے ہو ہو أوقاتكم الخمسة ثم تنسونـه وتعرضون۔ و کنید باز فراموش ہے و اعراض ے نمائید۔ پھر بھولتے ہو اور مونہہ لیتے ہو۔