خطبة اِلہامِیّة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 192 of 530

خطبة اِلہامِیّة — Page 192

روحانی خزائن جلد ۱۶ ۱۹۲ خطبه الهاميه وإشارة إلى نبا قدره، فقد جاء كم مسيحكم اشارت بسوئے خبرے کہ مقدر بود این دعا شمارا تعلیم کرد۔ بنا براں مسیح شما پیش شما خبر کی طرف جو مقدر تھی اشارہ کے لئے یہ دعا تم کو سکھائی۔ پس تمہارا مسیح تمہارے پاس آگیا۔ فإن لم تنتهوا فسوف تُسألون ۔ وثبت بیامد اکنون اگر از تعدی دست باز نه داشتید البته ما خود خواهید شد و ازیں مقام اب اگر تم ظلم سے باز نہ آئے تو ضرور پکڑے جاؤ گے اور اس مقام سے من هذا المقام أن المراد من المغضوب عليهم ثابت شد که مراد ثابت ہوا که خدا کے از مغضوب علیہم نزدیک مغضوب علیہم عند الله العلام هم اليهود الذين فرطوا نزد خدا سے وہ آل یہودی یہود مراد هستند که در ہیں جنہوں نے الحاشية ان لفظ المغضوب عليهم قد حذى لفظ الضالين۔ اعنى وقع ذالک به تحقیق لفظ مغضوب علیهم بالمقابل لفظ ضالین است۔ یعنی آں لفظ بمقابلہ لفظ مغضوب علیہم ضالین کے لفظ کے مقابل میں ہے یعنی وہ لفظ اس لفظ کے بحذاء هذا كما لا يخفى على المبصرين۔ فثبت بالقطع و اليقين این لفظ افتاده چنانچه بر بینندگان پوشیده نیست پس بقطع و یقین ثابت شد که مقابل پڑا ہے جیسا کہ دیکھنے والوں پر پوشیدہ نہیں۔ پس قطع اور یقین سے ثابت ہو گیا کہ ان مغضوب عليهم هم الذين فرّطوا في امر عيسى ۔ بالتكفير مغضوب علیہم آں یہود اند که در امر عیسی تفریط کردند و کافر گفتند مغضوب علیہم وہ لوگ ہیں جنہوں نے حضرت عیسی کے بارے میں تفریط کی اور کافر قرار دیا