خطبة اِلہامِیّة — Page 186
روحانی خزائن جلد ۱۶ ۱۸۶ خطبه الهاميه لعلكم ترحمون ۔ وما من قضية أصر عليها تا بر شما رحم بشود و ہر قضیہ کہ اہل زمین براں اصرار تا تم پر رحم کیا جائے اور ایسا ہر ایک جھگڑا جس میں اہل زمین أهل الأرض إلا قضيت في آخر الأمر في بورزند در آسمان فیصل کرده ے شود لازماً آخر کار اصرار کریں آخر کار آسمان میں اس کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔ السماء ، وتلك سنة لا تبديل لها أيها اے ظالمان! ایں سنت خداست کہ گاہے تبدیل نشده است۔ هرگز ہے جو کبھی نہیں بدلی۔ ہرگز اے ظالمو! یہ خدا کی سنت الظالمون ۔ وما كان الله ليترك الحق وأهله را ممکن نیست که خدا حق را و اهل حق ممکن نہیں کہ خدا حق کو اور اہل حق کو چھوڑ بگذارد تا دے آنکه جب تک حتــى يـمـيــز الخبيث من الطيب، فما لكم نا پاک را از پاک جدا نه سازد ناپاک کو پاک سے جدا نه کرے۔ لا تبصرون؟ وإن أَكُ كاذبا فعلى كذبي، وإِنْ أَكُ اگر من کاذب هستم و بال کذب من بر سر من فرود آید و اگر من صادق هستم اگر میں جھوٹا ہوں تو میرے جھوٹ کا وبال میرے سر پر پڑے گا اور اگر میں سچا ہوں صادقا فأخاف أن يمسكم نَصَبٌ من الله، وإنه لا و درد برسد و مقرر است مے ترسم که شما را از طرف خدا رنج ہوں کہ تم پر خدا کی طرف سے عذاب نازل ہو۔ اور یہ پکی بات ہے تو میں ڈرتا