خطبة اِلہامِیّة — Page 184
روحانی خزائن جلد ۱۶ ۱۸۴ خطبه الهاميه إلى مفسر زُكِّيَ مِن أيدى الله وأُدخِلَ في الذين بمفسرے افتاد که دست خدا او را پاک کرده و در بینایان داخل کرده باشد مفسر کی حاجت پڑی کہ خدا کے ہاتھ نے اسے پاک کیا ہو اور بینا بنایا ہو يبصرون ۔ ويُحكم كيف تكذبون كتاب الله وائے بر شما چگونه کتاب خدا را تکذیب ے افسوس تم پر کس طرح خدا کی کتاب کی تکذیب کرتے کنید و ہو اور وتكفرون بنبأه ؟ أيأمركم إيمانكم أن تكفروا بر پیشگوئی وے ایمان نے آرید ۔ آیا ایمان شما شما را امر می کند که کفر به پیشگوئی ہائے خدا بکنید اس کی پیشگوئی پر ایمان نہیں لاتے ۔ کیا تمہارا ایمان تم کو حکم دیتا ہے کہ خدا کی پیشگوئیوں کے ساتھ بأنباء الله إن كنتم تؤمنون؟ وقد خلت قوم من ے دانید شما کفر کرو۔ تم جانتے که پیش ہو کہ تم سے از شما قومے بودند پہلے ایسی قوم تھی کہ قبلكم ظنوا كظنكم في رسلهم، فبلغوا التكذيب کہ ہمیں گمان بد که شما می کنید اوشان درباره رسولان خود کردند و تکذیب و اهانت را یہی برا گمان جو تم کرتے ہو اپنے رسولوں کی نسبت کیا اور تکذیب والإهانة منتهاها وكانوا يعتدون، فأقبل از اور اہانت کو حد سے حد گز را نیدند زیادہ گزار دیا۔ آخر مامور آخر لوگ المأمورون على ربهم واستفتحوا، فخاب الذين ماموران بر آستانه ایزدی بیفتادند و بر حضرت دے سر عجز وصدق نهادند ۔ واز جناب وے فیصلہ درخواستند آستانہ احدیت پر گر پڑے اور اس کی جناب میں عجز اور صدق کا سر رکھ دیا اور اس سے فیصلہ چاہا۔ پس وہ لوگ