خطبة اِلہامِیّة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 133 of 530

خطبة اِلہامِیّة — Page 133

روحانی خزائن جلد ۱۶ ۱۳۳ خطبه الهاميه اوّل السلسلة فاين مثيل عيســى فـي اخـرهـا او ابتداء سلسلہ پس مثیل عیسی ور آخر سلسله کجاست یا پس مثیل عیسی اس سلسلہ کے آخر میں کہاں ہے۔ بقيت السلسلة ناقصةً ايها المتدبرون ـ الا مانده است اے فکر کنندگان! سلسله ناتمام یا سلسله ناتمام ره رہ گیا آیا فکر کرنے والو! اے کیا ترون فتن القوم الذين هم من كل حدب که از بالائے ہر بلندی ن ببینید فتنہ ہائے آں قوم تم اس قوم کے فتنہ کو نہیں دیکھتے کہ ہر ایک بلندی سے ينسلون۔ وقد جعلتم تحت اقدامهم نکالا (۸۰) می شتابند شما در زیر پا ہائے او شاں گردانیده شده اید بطور سزا دوڑتے ہیں اور تمہیں ان کے پیروں کے نیچے خدا نے ڈال دیا ہے بطور سزا و من الله ثم انتم لا ترجعون ۔ عسى ربكم از خدا باز ہم پھر بھی رجوع نے آرید ۔ نزدیک است که پروردگار شما رجوع نہیں کرتے ۔ قریب ہے کہ تمہارا پروردگار ان يرحمكم فويحكم لم لا تسمعون۔ أتطمعون بر شما رحم آرد افسوس چرا گوش نمے د ہیں۔ آیا امید میکنید تم پر رحم کرے افسوس کیوں نہیں سنتے ۔ کیا امید رکھتے ہو ان ينزل عيســى مـن السمـاء هيهات هيهات لمـا که عیسی از آسمان نازل شود این امید شما هرگز بوقوع نخواهد آمد کہ عیسی علیہ السلام آسمان سے نازل ہوں؟ یہ تمہاری امید کبھی بھی پوری نہ ہوگی