خطبة اِلہامِیّة — Page 105
روحانی خزائن جلد ۱۶ ۱۰۵ خطبه الهاميه وعلمت اني جئت على اجل من سيدى المصطفى و می دانید که من از آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تا آن مدت آمده ام اور تم جانتے ہو کہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی مدت پر آیا ہوں کہ جس میں كمثـل اجــل جـاء عـلـيـــه مــن الكليم ابن الصديقة کہ دراں عیسیٰ علیہ السلام بعد از حضرت موسیٰ علیہ السلام آمده بودند عیسیٰ علیہ السلام موسیٰ علیہ السلام کے بعد آئے تھے۔ عيسى - وعلمت ان خاتم خلفاء هذه الامة من الامة کہ خاتم خلفاء این امت ہم ازیں امت است و دانسته اید اور تم نے جان لیا کہ امت کا خاتم الخلفاء اسی امت میں سے ہے لا من فئة اخرى - فكيف تكفر به اتكفر نہ از گرو ہے دیگر پس چگونه انکار آں مے کنید آیا برائے نہ دوسرے گروہ میں سے پس کیوں اس کا انکار کرتے ہو؟ کیا پراگندہ اور بالقرآن لاقوال شتى - ومـــن فـكـر فـي اية سخنہائے پراگندہ و بے اصل انکار قرآن شریف می کنید ۔ و هر که فکر کند در آیت ليستـخـلـفـنـهـم بے اصل باتوں کے بھروسہ پر قرآن کا انکار کرتے ہو۔ اور جو کوئی فکر کریگا اس آیت میں کہ ليستخلفنهم ملا قلبه يقينا وايمانا وترك دل او از یقین و ایمان پر خواهد شد ليستخلفنهم ہے اس کا دل یقین اور ایمان سے پر ہو جائے گا اور جو باتیں اس کے برخلاف ما يروى بخلافه و يُحكى - وكشفت عليه الحقيقة ) ورو ایتہائے بیہودہ و فضول را خواهد گذاشت و بر و حقیقت منکشف خواهد شد بیان کی جاتی ہیں ان سب کو چھوڑ دیگا اور اس شخص پر حقیقت منکشف ہو جائے گی