خطبة اِلہامِیّة — Page 94
روحانی خزائن جلد ۱۶ ۹۴ خطبه الهاميه بكتاب الله وهو بـحـر مـن الـمـعـارف وماء کتاب البی می کنید و آن دریائیست از معارف کتاب اللہ سے انکار کرتے ہو جو معارف کا دریا و آبی است اور صاف و شفاف اصفى – وكيف اسْتَطَبْتُم ان تتركوا الفرقان نہایت صاف و شفاف و چگونه خوش آمد شما را که قرآن شریف را پانی ہے اور تمہیں کیونکر یہ بات پسند آگئی کہ قرآن شریف کو الحميد لاقوال شتى - اَ تَسْتَبْدِلُونَ الَّذِي هُوَ برائے آں قولها می گذارید کہ متفرق و بے سرو پا هستند ۔ آیا ادنی را ان اقوال کے بدلے چھوڑتے ہو جو بے سروپا اور متفرق ہیں اور ادنی کو (۳) ادْنى بِالَّذِي هُوَ خَيْرٌ ۖ وَإِنَّ الظَّنَّ لَا يُغْنِي مِنَ و ظن از حق بعوض اعلی ترک می کنید اعلیٰ کے عوض میں ترک کرتے ہو اور ظن حق سے کسی طرح مستغنی الْحَقِّ شَيْئًا - وقد جُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ " كما آفتاب هیچ مستغنی نمی کند و جمع کرده شد نہیں کرتا اور چاند اور سورج جمع کئے گئے و ماه بیچناں کہ جیسا کہ ذكر القرآن وكسفا في رمضان كشق القمر ذکر آن در قرآن شریف آمده است و هر دو را در رمضان کسوف گرفت همچو شق القمر قرآن شریف میں ذکر آیا ہے اور دونوں کا رمضان شریف میں کسوف و خسوف ہو گیا جیسے کہ پیغمبر خدا في زمن خير الورى وعطلت العشار لمن يرى در زمانه پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم و معطل کرده شدند شتران صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں شق القمر ہوا اونٹ بے کار کئے گئے البقرة : ٢٢ النجم : ٢٩ القيمة : ١٠