خطبة اِلہامِیّة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 91 of 530

خطبة اِلہامِیّة — Page 91

روحانی خزائن جلد ۱۶ ۹۱ خطبه الهاميه على الابصار غشاوة فما يرون ماطلع وتجلى - بر چشم ہائے ایشاں پردہ است پس نمی بینند آنچه طلوع کرد و تجلی نمود ان کی آنکھوں پر پردہ ہے جو وہ اس تجلی کی طرف جو طلوع ہوئی ہے نظر نہیں کرتے ومنهم قوم أعطوا علما ثم يمرون كالذى و از ایشاں قومی است که اوشاں را اند کے علم داده شد باز ہمچو کسے مے گذرند اور ان میں ایک قوم ہے جس کو علم تھوڑا سا دیا گیا ہے تسپر بھی اعراض و انکار ہی کرتے ہیں اعرض وابى - ولئن سألتهم ما وعد الله ربكم که اعراض و انکار می کنند و اگر پرسیده شود از ایشان کہ خدائے شماچہ وعدہ کردہ است اگر ان سے پوچھا جائے کہ تمہارے خدا نے کیا وعدہ فرمایا ہے الاعلى - ليقولن انه وعد المؤمنين ان يستخلف البته می گویند که او مومنان را این وعده داده است که هم از یشاں خلیفہ ہا تو اس کے جواب میں کہتے ہیں کہ ہاں خدا نے یہ وعدہ مومنوں سے ضرور کیا ہے کہ ان میں منهم كما استخلف من قوم موسى - فقد اقروا پیدا خواهد کر دہمچو آں خلیفہ ہا کہ از قوم موسیٰ علیہ السلام پیدا کرده بود پس بمشا بہت خلیفے پیدا کئے جاویں گے ان خلیفوں کی مانند جو موسیٰ علیہ السلام کی قوم میں خلیفے پیدا کئے تھے۔ پس دونوں بتشابه السلسلتين ثم ينكرون كبصير تعامى ہر دو سلسلہ اقرار کرده اند باز ہمچو کسے انکار می کنند که بینا باشد و خود را نابینا نماید سلسلوں کی مشابہت کا اقرار کرتے ہیں پھر ایسے شخص کی طرح انکار کر بیٹھے ہیں کہ وہ سوجا کھا ہو اور اپنے ولما كان نبينا مثيل موسى - وكان سلسلة و ہرگاہ نبی ما صلی اللہ علیہ وسلم مثیل موسیٰ بود وسلسلہ خلفائے او آپ کو اندھا بنالے اور جس حالت میں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم مثیل موسیٰ ٹھہرے اور نیز سلسلہ خلفاء اد