خطبة اِلہامِیّة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 88 of 530

خطبة اِلہامِیّة — Page 88

روحانی خزائن جلد ۱۶ ۸۸ خطبه الهاميه فاتقوا الله الذي اليه الرجعي - ولا تكونوا پس بترسید ازاں خدا کہ سوئے او بازگشت است خدا تعالی سے ڈرو بقية الحاشية و ہمچو کسانی نباشید کہ خدا تعالیٰ کی طرف ایک دن جانا ہے ان لوگوں کی طرح نہ بن جاؤ الى الطريق المتعارف المشهود - ويكفى للمضاهاة الاشتراك سوئے عام قاعدہ پیدائش ندر تے دارد و برائے مشابہت این قدر اشتراک کافی است عام پیدائش کے قاعدہ سے عجیب ہے اور مشابہت کے لئے اسی قدر اشتراک کافی ہے۔ في الندرة بهذا القدر عند اهل العقل والشعور - فان المشابهة چرا که مشابہت کس لئے کہ مشابہت و بوئے لا توجب الا لونا من المناسبة۔ ولا تقتضى الا رائحةً من نہ مے خواہد مگر رنگے از مناسبت و مماثلت سوائے ایک رنگ کی مناسبت کے اور کچھ نہیں چاہتی ہے ۔ اور وہ اس جگہ المماثلة۔ وانا اذا قلنا مثلا ان هذا الرجل اسد بطريق المجاز از مماثلت و آن اینجا حاصل است و ما چوں بگوئیم که مثلاً این مرد شیر است بطریق مجاز و حاصل ہے مثلاً جب ہم بطریق مجاز و استعارہ یہ کہیں کہ یہ مرد شیر ہے والاستعارة۔ فليس علينا من الواجب أن نثبت له كلما يوجد و استعاره پس دریل بر ما واجب نیست که ما ثابت کنیم کہ ہمہ آں اعضا پس ہمیشہ یہ لازم و واجب نہیں ہے کہ ہم یہ ثابت کریں کہ تمام اعضاء وصفات في الاسد من الذنب والزئر وهيئة الجلد وجميع لوازم وصفات که در شیر یافته می شوند هیچو دم و آواز و صورت جلد و جمیع لوازم درندگی در و اس شیر کے اس مرد میں پائے جاتے ہیں چنانچہ دم و آواز اور بال اور کھال اور تمام درندگی کے لوازم بھی