خطبة اِلہامِیّة — Page 80
روحانی خزائن جلد ۱۶ ۸۰ خطبه الهاميه وما كان له اب من بني اسراء يل الا امه - و عیسی علیه السلام را از بنی اسرائیل پیچ پدرے نہ بود مگر مادرے اور عیسی علیہ السلام کا بنی اسرائیل میں سے سوائے ماں کے کوئی باپ نہ تھا۔ وکذالک خـلـقـه الــلــه مـن غيــراب و اومـا فيــه و ہم چنیں خدا تعالیٰ بغیر پدر او را پیدا کرد و دریں اشارت کرد اس طرح پر خدا نے ان کو بے باپ پیدا کیا۔ اور اس بے باپ پیدا کرنے میں ایک اشارہ بقية الحاشية ماقيل۔ وعذبوها باقاويل ۔ فكان هذان الامران علما لساعة نقل النبوة آنچه گفته شد و به گونا گوں سخنہا اورا ایذا داد ند۔ پس ایں ہر دو امر دلیلی بود بر ساعت نقل نبوت از جو کہا گیا۔ اور طرح طرح کی باتوں سے اس کو دکھ پہنچایا گیا۔ پس یہ دونوں امر نقل نبوت کی گھڑی پر ایک دلیل تھے و علما لتعذيب هذه الفرقة - فاصاب اليهود ذلة باخراجهم من هذا البستان ۔ خاندان یہود و دلیلی بود بر عذاب دادن این فرقه را۔ پس یہود را دو ذلت رسید یکی آنکه از باغ نبوت اخراج ایشاں اور نیز اس بات پر کہ اس فرقہ کو عذاب پہنچایا جائیگا۔ پس یہود کو دو ذلتیں پہنچیں۔ ایک یہ کہ نبوت کے باغ سے و نقل النبوة الى بنى اسماعيل غضبًا من الله الديان ـ ثم اصابهم ذلة اخرى کردند و نبوت در بنی اسماعیل منتقل فرمودند ۔ وذلت دوم از دست با دشاہاں خارج کر دیئے گئے اور نبوت بنی اسماعیل میں منتقل ہوگئی اور دوسری ذلت اور عذاب بادشاہوں وقارعة من ملوك الزمان - بل من كل ملك الى هذا الاوان ۔ زمانه اوشان را رسید کے ذریعہ سے ان کو پہنچا بلکه از دست هر بادشاہ تا ایں وقت ذلت با دیدند بلکہ ہر ایک بادشاہ کے ذریعہ سے اس وقت تک وان فيها لأية لاهل العلم والعرفان - مــنــه و دریں نشانی است برائے اہل علم و عارفان ۔ منہ اور اس میں اہل علم اور عارفوں کیلئے نشان ہیں ۔ منہ