کشتیءنوح — Page 57
روحانی خزائن جلد ۱۹ کشتی نوح بے گناہ مسیح کو یہودیوں کے حوالہ کر دیا میری طرح کوئی خون کا الزام نہ تھا صرف معمولی طور پر مذہبی اختلاف تھا لیکن وہ رومی پیلاطوس دل کا قومی نہ تھا اس بات کو سن کر ڈر گیا کہ قیصر کے پاس اُس کی شکایت کی جائے گی۔ اور پھر ایک اور مماثلت پہلے پیلاطوس اور اس پیلاطوس میں یا در رکھنے کے لائق ہے کہ پہلے پیلاطوس نے اس وقت جو مسیح ابن مریم عدالت میں پیش کیا گیا یہودیوں کو کہا تھا کہ میں اس شخص میں کوئی گناہ نہیں دیکھتا ایسا ہی جب آخری مسیح اس آخری پیلاطوس کے روبرو پیش ہوا اور اس مسیح نے کہا کہ مجھے چند روز تک جواب کے لئے مہلت دینی چاہیے کہ مجھ پر خون کا الزام لگایا جاتا ہے تب اس آخری پیلاطوس نے کہا کہ میں آپ پر کوئی الزام نہیں لگا تا یہ دونوں قول دونوں پیلاطوسوں کے بالکل باہم مشابہ ہیں اگر فرق ہے تو صرف اس قدر ہے کہ پہلا پیلاطوس اپنے اس قول پر قائم نہ رہ سکا اور جب اس کو کہا گیا کہ قیصر کے پاس تیری شکایت کریں گے تو وہ ڈر گیا اور حضرت مسیح کو اس نے عمداً خونخوار یہودیوں کے حوالہ کر دیا گو وہ اس سپردگی سے غمگین تھا اور اس کی عورت بھی غمگین تھی کیونکہ وہ دونوں مسیح کے سخت معتقد تھے لیکن یہودیوں کا سخت شور و غوغا دیکھ کر بزدلی اُس پر غالب آگئی ہاں البتہ پوشیدہ طور پر اس نے بہت سعی کی کہ میچ کی جان کو صلیب سے بچایا جاوے اور اس سعی میں وہ کامیاب بھی ہو گیا مگر بعد اس کے کہ مسیح صلیب پر چڑھایا گیا اور شدت درد سے ایک ایسی سخت غشی میں آگیا کہ گویا وہ موت ہی تھی ۔ بہر حال پیلاطوس رومی کی کوشش سے مسیح ابن مریم کی جان بچ گئی اور جان بچنے کے لئے پہلے سے مسیح کی دعا منظور ہو چکی تھی ۔ دیکھو عبرانیاں باب ۵ آیت کے بعد اس کے مسیح اُس زمین سے پوشیدہ طور پر بھاگ کر کشمیر کی طرف آ گیا اور وہیں مسیح نے بطور پیشگوئی خود بھی کہا کہ بجز یونس کے نشان کے اور کوئی نشان دکھایا نہیں جائے گا پس مسیح نے اپنے اس قول میں یہ اشارہ کیا کہ جس طرح یونس زندہ ہی مچھلی کے پیٹ میں داخل ہوا اور زندہ ہی نکلا ایسا ہی میں بھی زندہ ہی قبر میں داخل ہوں گا اور زندہ ہی نکلوں گا سو یہ نشان بجز اس کے کیونکر پورا ہو سکتا تھا کہ مسیح زندہ صلیب سے اُتارا جاتا اور زندہ قبر میں داخل ہوتا اور یہ جو حضرت مسیح نے کہا کہ کوئی اور نشان نہیں دکھایا جائے گا اس فقرہ میں گویا مسیح ان لوگوں کا رد کرتا ہے کہ جو کہتے ہیں کہ مسیح نے یہ نشان بھی دکھلایا کہ آسمان پر چڑھ گیا۔ منہ ☆