کشتیءنوح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 28 of 566

کشتیءنوح — Page 28

روحانی خزائن جلد ۱۹ ۲۸ کشتی نوح ملک اور بنی اسرائیل کا بیت مقدس تمہیں عطا نہیں کیا جو آج تک تمہارے قبضہ میں ہے پس اے ست اعتقاد و اور کمزور ہمتو کیا تمہیں یہ خیال ہے کہ تمہارے خدا نے جسمانی طور پر تو بنی اسرائیل کے تمام املاک کا تمہیں قائم مقام کر دیا مگر روحانی طور پر تمہیں قائم مقام نہ کر سکا بلکہ خدا کا تمہاری نسبت ان سے زیادہ فیض رسانی کا ارادہ ہے خدا نے اُن کے روحانی جسمانی متاع و مال کا تمہیں وارث بنایا مگر تمہارا وارث کوئی دوسرا نہ ہوگا جب تک کہ قیامت آ جاوے خدا تمہیں نعمت وحی اور الہام اور مکالمات اور مخاطبات الہیہ سے ہرگز محروم نہیں رکھے گا وہ تم پر وہ سب نعمتیں پوری کرے گا جو پہلوں کو دی گئیں لیکن جو شخص گستاخی کی راہ سے خدا پر جھوٹ باندھے گا اور کہے گا کہ خدا کی وحی میرے پر نازل ہوئی حالانکہ نہیں نازل ہوئی اور یا کہے گا کہ مجھے شرف مکالمات اور مخاطبات الہیہ کا نصیب ہوا حالانکہ نہیں نصیب ہوا تو میں خدا اور اس کے ملائکہ کو گواہ رکھ کر کہتا ہوں کہ وہ ہلاک کیا جائے گا کیونکہ اُس نے اپنے خالق پر جھوٹ باندھا اور فریب کیا اور سخت بیبا کی اور شوخی ظاہر کی سو تم اس مقام میں ڈرو۔ لعنت ہے ان لوگوں پر جو جھوٹی خواہیں بناتے ہیں اور جھوٹے مکالمات اور مخاطبات کا دعوی کرتے ہیں گویا وہ دل میں خیال کرتے ہیں کہ خدا نہیں ، پر خدا کا عقاب ان کو سخت پکڑے گا اور اُن کا بُرا دن اُن سے ٹل نہیں سکتا۔ سو تم صدق اور راستی اور تقویٰ اور محبت ذاتیہ الہیہ میں ترقی کرو اور اپنا کام یہی سمجھو جب تک زندگی ہے پھر خدا تم میں سے جس کی نسبت چاہے گا اس کو اپنے مکالمہ مخاطبہ سے بھی مشرف کرے گا تمہیں ایسی تمنا بھی نہیں چاہیے تا نفسانی تمنا کی وجہ سے سلسلہ شیطانیہ شروع نہ ہو جائے جس سے کئی لوگ ہلاک ہو جاتے ہیں پس تم خدمت اور عبادت میں لگے رہو تمہاری تمام کوشش اسی میں مصروف ہونی چاہیے کہ تم خدا کے تمام احکام کے پابند ہو جاؤ اور یقین میں ترقی چاہو نجات کے لئے نہ الہام نمائی کے لئے ۔ قرآن شریف نے تمہارے لئے بہت پاک احکام لکھے ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ تم شرک سے بکلی پر ہیز کرو کہ مشرک سرچشمہ نجات سے بے نصیب ہے۔ تم جھوٹ نہ بولو کہ جھوٹ بھی ایک حصہ شرک ہے۔ قرآن تمہیں انجیل کی طرح یہ نہیں کہتا کہ صرف بد نظری اور