کشتیءنوح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 1 of 566

کشتیءنوح — Page 1

روحانی خزائن جلد ۱۹ رساله کشتی نوح تقوية الايمان بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ طاعون کا ٹیکا کشتی نوح ۱۳۱۰ لَنْ يُصِيبَنَا إِلَّا مَا كَتَبَ اللهُ لَنَا هُوَ مَوْلَنَا وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ يَا ترجمہ ۔ ہمیں کوئی مصیبت ہر گز نہیں پہنچ سکتی بجز اس مصیبت کے جو خدا نے ہمارے لئے لکھ دی ہے وہی ہمارا کارساز اور مولیٰ ہے اور مومنوں کو چاہیے کہ بس اسی پر بھروسہ رکھیں ۔ شکر کا مقام ہے کہ گورنمنٹ عالیہ انگریزی نے اپنی رعایا پر رحم کر کے دوبارہ طاعون سے بچانے کے لئے ٹیکا کی تجویز کی اور بندگان خدا کی بہبودی کے لئے کئی لاکھ روپیہ کا بوجھ اپنے سر پر ڈال لیا در حقیقت یہ وہ کام ہے جس کا شکر گزاری سے استقبال کرنا دانشمند رعایا کا فرض ہے اور سخت نادان اور اپنے نفس کا وہ شخص دشمن ہے کہ جو ٹیکا کے بارے میں بدظنی کرے کیونکہ یہ بار ہا تجر بہ میں آچکا ہے کہ یہ محتاط گورنمنٹ کسی خطرناک علاج پر عملدرآمد کرانا نہیں چاہتی بلکہ بہت سے تجارب کے بعد ایسے امور میں جو تدبیر فی الحقیقت مفید ثابت ہوتی ہے اسی کو پیش کرتی ہے سو یہ بات اہلیت اور انسانیت سے بعید ہے کہ جس بچی خیر خواہی کے لئے لکھوکھہا روپیہ گورنمنٹ خرچ کرتی ہے اور کر چکی ہے اُس کی یہ داد دی جائے کہ گویا گورنمنٹ کو اس سر دردی اور صرف زر سے اپنا کوئی خاص مطلب ہے وہ رعایا بد قسمت ہے کہ بدظنی میں اس درجہ تک پہنچ جائے کچھ شک نہیں کہ اس وقت تک جوتد بیر اس عالم اسباب میں اس گورنمنٹ عالیہ کے ہاتھ آئی وہ بڑی سے بڑی اور اعلیٰ سے اعلیٰ یہ تدبیر ہے کہ ٹیکا کرایا جائے اس سے کسی طرح انکار نہیں ہو سکتا کہ یہ تدبیر مفید پائی گئی ہے اور بپابندی رعائت اسباب تمام رعایا کا فرض ہے کہ اس پر کار بند ہو کر وہ غم جو گورنمنٹ کو ان کی جانوں کے لئے ہے اس سے اُس کو سبکدوش کر یں لیکن ہم بڑے ادب سے اس محسن گورنمنٹ کی خدمت میں عرض کرتے ہیں کہ اگر ہمارے لئے ایک آسمانی روک نہ ہوتی تو سب سے پہلے رعایا میں سے ل التوبة: اه