کشتیءنوح — Page 79
روحانی خزائن جلد ۱۹ ۷۹ کشتی نوح ان مولویوں پر افسوس اگر ان میں دیانت ہوتی تو وہ تقویٰ کی راہ سے اپنی تسلی ہر طرح سے کراتے اور خدا نے تو نیک روحوں کی تسلی کر دی مگر وہ لوگ جو ابو جہل کی مٹی سے بنے ہوئے ہیں وہ اُسی طریق کو اختیار کرتے ہیں جو ابو جہل نے اختیار کیا تھا ایک مولوی صاحب نے میرٹھ سے بذریعہ رجسٹری اطلاع دی ہے کہ امرت سر میں جلسہ ندوۃ العلماء ہے اس جگہ آکر بحث کرنی چاہیے مگر واضح ہو کہ اگر ان مخالفین کی نیتیں نیک ہوتیں اور فتح و شکست کا خیال نہ ہوتا تو ان کو اپنی تسلی کرانے کے لئے ندوہ وغیرہ کی کیا ضرورت تھی ہم ندوہ کے علماء کو امرت سر کے علماء سے الگ نہیں سمجھتے ایک ہی عقیدہ۔ ایک ہی جنس ایک ہی مادہ ہے ہر ایک کو اختیار ہے کہ قادیان میں آوے مگر بحث کے لئے نہیں بلکہ صرف طلب حق کے لئے ہماری تقریر کو سنے اگر شک رہے تو غربت اور ادب کے طریق سے اپنے شکوک رفع کرادے اور وہ جب تک قادیان میں رہے گا بطور مہمان کے سمجھا جائے گا ہمیں ندوہ وغیرہ کی ضرورت نہیں اور نہ اُن کی طرف حاجت ہے یہ سب لوگ راستی کے دشمن ہیں مگر راستی دنیا میں پھیلتی جاتی ہے کیا یہ خدا تعالیٰ کا عظیم الشان معجزہ نہیں کہ اُس نے آج سے بیس برس پہلے براہین احمدیہ میں اپنے الہام سے ظاہر کر دیا تھا کہ لوگ تمہارے ناکام رہنے کے لئے بڑی کوشش کریں گے اور ناخنوں تک زور لگا ئیں گے مگر آخر میں تمہیں ایک بڑی جماعت بناؤں گا یہ اس وقت کی وحی الہی ہے جب کہ میرے ساتھ ایک آدمی بھی نہیں تھا پھر میرے دعوی کے شائع ہونے پر مخالفوں نے ناخنوں تک زور لگائے آخر حسب پیشگوئی مذکورہ بالا یہ سلسلہ پھیل گیا اور اب آج کی تاریخ تک برٹش انڈیا میں یہ جماعت ایک لاکھ سے بھی کچھ زیادہ ہے۔ ندوۃ العلماء کو اگر مرنا یاد ہے تو براہین احمدیہ اور سرکاری کا غذات کو دیکھ کر بتلاوے کہ کیا یہ مجوزہ ہے یا نہیں پھر جب کہ قرآن اور معجزہ دونوں پیش کئے گئے تو اب بحث کس غرض کے لئے؟ ایسا ہی اس ملک کے گدی نشین اور پیرزادے دین سے ایسے بے تعلق اور اپنی بدعات میں ایسے دن رات مشغول ہیں کہ اُن کو اسلام کی مشکلات اور آفات کی کچھ بھی خبر نہیں۔