کشتیءنوح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 65 of 566

کشتیءنوح — Page 65

روحانی خزائن جلد ۱۹ کشتی نوح طور پر اُس کا وجو دلیا ہے پس تمام ٹھو کر ان کی حدیثوں کے سبب سے تھی جو آخر کار ان کے بے ایمان ہونے کا موجب ہوگئی اور ممکن ہے کہ وہ لوگ ان حدیثوں کے معنوں میں بھی غلطی کرتے ہوں یا حدیثوں میں بعض انسانی الفاظ مل گئے ہوں ۔ غرض شائد مسلمانوں کو اس واقعہ کی خبر نہیں ہوگی کہ یہودیوں میں حضرت مسیح کے منکر اہل حدیث ہی تھے انہوں نے ان پر شور مچایا اور تکفیر کا فتویٰ لکھا اور اُن کو کافر قرار دیا اور کہا کہ یہ شخص خدا کی کتابوں کو مانتا نہیں خدا نے الیاس کے دوبارہ آنے کی خبر دی اور یہ اس پیشگوئی کی تاویلیں کرتا اور بغیر کسی قرینہ صارفہ کے ان خبروں کو کسی اور طرف کھینچ کر لے جاتا ہے اور حضرت مسیح کا نام انہوں نے صرف کا فر ہی نہیں بلکہ ملحد بھی رکھا اور کہا کہ اگر یہ شخص سچا ہے تو پھر دین موسوی باطل ہے وہ ان کے لئے فیج اعوج کا زمانہ تھا جھوٹی حدیثوں نے اُن کو دھوکا دیا۔ غرض حدیثوں کے پڑھنے کے وقت یہ خیال کر لینا چاہیے کہ ایک قوم پہلے اس سے حدیث کو تو ریت پر قاضی ٹھہرا کر اس حالت تک پہنچ چکی ہے کہ ایک بچے نبی کو انہوں نے کافر اور دجال کہا اور اُس سے انکار کر دیا ۔ تا ہم مسلمانوں کے لئے صحیح بخاری نہایت متبرک اور مفید کتاب ہے یہ وہی کتاب ہے جس میں صاف طور پر لکھا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام وفات پاگئے ۔ ایسا ہی مسلم اور دوسری احادیث کی کتابیں بہت سے معارف اور مسائل کا ذخیرہ اپنے اندر رکھتی ہیں اور اس احتیاط سے جس وقت حضرت عیسی علیہ السلام پر کفر کا فتویٰ لکھا گیا اُس وقت وہ پولوس بھی مکفرین کی جماعت میں داخل تھا جس نے بعد میں اپنے تئیں رسول مسیح کے لفظ سے مشہور کیا یہ شخص حضرت مسیح کی زندگی میں آپ کا سخت دشمن تھا جس قدر حضرت مسیح کے نام پر انجیلیں لکھی گئیں ہیں ان میں سے ایک میں بھی یہ پیشگوئی نہیں ہے کہ میرے بعد پولوس تو بہ کر کے رسول بن جائے گا اس شخص کے گزشتہ چال چلن کی نسبت لکھنا ہمیں کچھ ضرورت نہیں کہ عیسائی خوب جانتے ہیں افسوس ہے کہ یہ وہی شخص ہے جس نے حضرت مسیح کو جب تک وہ اس ملک میں رہے بہت دکھ دیا تھا اور جب وہ صلیب سے نجات پا کر کشمیر کی طرف چلے آئے تو اس نے ایک جھوٹی خواب کے ذریعہ سے حواریوں میں اپنے تئیں داخل کیا اور تثلیث کا مسئلہ گھڑا اور عیسائیوں پر سور کو جو توریت کے رو سے ابدی حرام تھا حلال کر دیا اور شراب کو بہت وسعت دے دی اور انجیلی عقیدہ میں تثلیث کو داخل کیا تا ان تمام بدعتوں سے یونانی بُت پرست خوش ہو جائیں ۔ منہ