کشتیءنوح — Page 63
روحانی خزائن جلد ۱۹ ۶۳ کشتی نوح مخالف ہے جو قرآن کے مطابق ہیں بہر حال احادیث کا قدر کرو اور اُن سے فائدہ اُٹھاؤ کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب ہیں اور جب تک قرآن اور سنت ان کی تکذیب نہ کرے تم بھی ان کی تکذیب نہ کرو بلکہ چاہیے کہ احادیث نبویہ پر ایسے کار بند ہو کہ کوئی حرکت نہ کرو اور نہ کوئی سکون اور نہ کوئی فعل کرو اور نہ ترک فعل مگر اس کی تائید میں تمہارے پاس کوئی حدیث ہو لیکن اگر کوئی ایسی حدیث ہو جو قرآن شریف کے بیان کردہ قصص سے صریح مخالف ہے تو اس کی تطبیق کے لئے فکر کرد شائد وہ تعارض تمہاری ہی غلطی ہو اور اگر کسی طرح وہ تعارض دور نہ ہو تو ایسی حدیث کو پھینک دو کہ وہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے نہیں ہے اور اگر کوئی حدیث ضعیف ہے مگر قرآن سے مطابقت رکھتی ہے تو اس حدیث کو قبول کر لو کیونکہ قرآن اس کا مصدق ہے اور اگر کوئی ایسی حدیث ہے جو کسی پیشگوئی پر مشتمل ہے مگر محدثین کے نزدیک وہ ضعیف ہے اور تمہارے زمانہ میں یا پہلے اس سے اس حدیث کی پیشگوئی سچی نکلی ہے تو اس حدیث کو کچی سمجھو اور ایسے محدثوں مخط اور راویوں کو شعلی اور کا ذب خیال کرو جنہوں نے اس حدیث کو ضعیف اور موضوع قرار دیا ہوا یسی حدیثیں صدہا ہیں جن میں پیشگوئیاں ہیں اور اکثر ان میں سے محدثین کے نزدیک مجروح یا موضوع یا ضعیف ہیں پس اگر کوئی حدیث اُن میں سے پوری ہو جائے اور تم یہ کہہ کر ٹال دو کہ ۵۹) ہم اس کو نہیں مانتے کیونکہ یہ حدیث ضعیف ہے یا کوئی راوی اس کا متدین نہیں ہے تو اس صورت میں تمہاری خود بے ایمانی ہوگی کہ ایسی حدیث کو رد کر دو جس کا سچا ہونا خدا نے ظاہر کر دیا۔ خیال کرو کہ اگر ایسی حدیث ہزار ہوا اور محدثین کے نزدیک ضعیف ہو اور ہزار پیشگوئی اس کی کچی نکلے تو کیا تم ان حدیثوں کو ضعیف قرار دے کر اسلام کے ہزار ثبوت کو ضائع کر دو گے پس اس صورت میں تم اسلام کے دشمن ٹھہرو گے اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَلَا يُظْهِرُ عَلى غَيْبِمَ أَحَدًا إِلَّا مَنِ ارْتَضَى مِنْ رَّسُولٍ پر بچی پیشگوئی بجز بچے رسول کے کس کی طرف منسوب ہو سکتی ہے کیا ایسے موقعہ پر یہ کہنا مناسب حالت ایمانداری نہیں ہے کہ صحیح حدیث کو ضعیف کہنے میں کسی محدث نے غلطی کھائی اور یا یہ کہنا مناسب ہے کہ جھوٹی حدیث کو سچی کر کے الجن : ۲۸،۲۷