کشتیءنوح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 62 of 566

کشتیءنوح — Page 62

روحانی خزائن جلد ۱۹ ۶۲ کشتی نوح نہیں دیا گیا وہ اس موقعہ پر حدیث کو قاضی قرآن کہتے ہیں جیسا کہ یہودیوں نے اپنی حدیثوں کی نسبت کہا مگر ہم حدیث کو خادم قرآن اور خادم سنت قرار دیتے ہیں اور ظاہر ہے کہ آقا کی شوکت خادموں کے ہونے سے بڑھتی ہے قرآن خدا کا قول ہے اور سنت رسول اللہ کا فعل اور حدیث سنت کے لئے ایک تائیدی گواہ ہے۔ نعوذ باللہ یہ کہنا غلط ہے کہ حدیث قرآن پر قاضی ہے اگر قرآن پر کوئی قاضی ہے تو وہ خود قرآن ہے۔ حدیث جو ایک فنی مرتبہ پر ہے قرآن کی ہرگز قاضی نہیں ہو سکتی صرف ثبوت مؤید کے رنگ میں ہے قرآن اور سنت نے اصل کام سب کر دکھایا ہے اور حدیث صرف تائیدی گواہ ہے حدیث قرآن پر کیسے قاضی ہو سکتی ہے قرآن اور سنت اُس زمانہ میں ہدایت کر رہے تھے جب کہ اس مصنوعی قاضی کا نام ونشان نہ تھا یہ مت کہو کہ حدیث قرآن پر قاضی ہے بلکہ یہ کہو کہ حدیث قرآن اور سنت کے لئے تائیدی گواہ ہے البتہ سنت ایک ایسی چیز ہے جو قرآن کا منشاء ظاہر کرتی ہے اور سنت سے وہ راہ مراد ہے جس راہ پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عملی طور پر صحابہ کو ڈال دیا تھا سنت اُن باتوں کا نام نہیں ہے جو سو ڈیڑھ سو برس بعد کتابوں میں لکھی گئیں بلکہ ان باتوں کا نام حدیث ہے اور ۵۸ سنت اس عملی نمونہ کا نام ہے جو نیک مسلمانوں کی عملی حالت میں ابتدا سے چلا آیا ہے جس پر ہزار ہا مسلمانوں کو لگایا گیا۔ ہاں حدیث بھی اگر چہ اکثر حصہ اُس کا ظن کے مرتبہ پر ہے مگر بشرط عدم تعارض قرآن و سنت تمسک کے لائق ہے اور مؤید قرآن وسنت ہے اور بہت سے اسلامی مسائل کا ذخیرہ اس کے اندر موجود ہے پس حدیث کا قدر نہ کرنا گویا ایک عضو اسلام کا کاٹ دینا ہے ہاں اگر ایک ایسی حدیث ہو جو قرآن اور سنت کے نقیض ہو اور نیز ایسی حدیث کی نقیض ہو جو قرآن کے مطابق ہے یا مثلاً ایک ایسی حدیث ہو جو صیح بخاری کے مخالف ہے تو وہ حدیث قبول کے لائق نہیں ہوگی کیونکہ اس کے قبول کرنے سے قرآن کو اور اُن تمام احادیث کو جو قرآن کے موافق ہیں رد کرنا پڑتا ہے اور میں جانتا ہوں کہ کوئی پر ہیز گار اس پر جرات نہیں کرے گا کہ ایسی حدیث پر عقیدہ رکھے کہ وہ قرآن اور سنت کے برخلاف اور ایسی حدیثوں کے