کشتیءنوح — Page 61
روحانی خزائن جلد ۱۹ บ کشتی نوح وہ جنہوں نے ایک برگزیدہ رسول کو قبول نہ کیا۔ مبارک وہ جس نے مجھے پہچانا میں خدا کی سب را ہوں میں سے آخری راہ ہوں۔ اور میں اس کے سب نوروں میں سے آخری نور ہوں ۔ بدقسمت ہے وہ جو مجھے چھوڑتا ہے کیونکہ میرے بغیر سب تاریکی ہے۔ دوسرا ذریعہ ہدایت کا جو مسلمانوں کو دیا گیا ہے سنت ہے یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عملی کا روائیاں جو آپ نے قرآن شریف کے احکام کی تشریح کے لئے کر کے دکھلائیں مثلاً قرآن شریف میں بظاہر نظر پنجگانہ نمازوں کی رکعات معلوم نہیں ہوتیں کہ صبح کس قدر اور دوسرے وقتوں میں کس کس تعداد پر لیکن سنت نے سب کچھ کھول دیا ہے یہ دھوکہ نہ لگے کہ سنت اور حدیث ایک چیز ہے کیونکہ حدیث تو سوڈیڑھ سو برس کے بعد جمع کی گئی مگر سنت کا قرآن شریف کے ساتھ ہی وجود تھا مسلمانوں پر قرآن شریف کے بعد بڑا احسان سنت کا ہے خدا اور رسول کی ذمہ داری کا ۵۷ فرض صرف دو امر تھے اور وہ یہ کہ خدا نے قرآن کو نازل کر کے مخلوقات کو بذریعہ اپنے قول کے اپنے نشاء سے اطلاع دے یہ تو خدا کے قانون کا فرض تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرض تھا کہ خدا کی کلام کو عملی طور پر دکھلا کر بخوبی لوگوں کو سمجھاد میں پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ گفتنی با تیں کردنی کے پیرایہ میں دکھلا دیں اور اپنی سنت یعنی عملی کا روائی سے معضلات اور مشکلات مسائل کو حل کر دیا یہ کہنا بے جا ہے کہ یہ حل کرنا حدیث پر موقوف تھا کیونکہ حدیث کے وجود سے پہلے اسلام زمین پر قائم ہو چکا تھا کیا جب تک حدیثیں جمع نہ ہوئی تھیں لوگ نماز نہ پڑھتے تھے یا ز کوۃ نہ دیتے تھے یا حج نہ کرتے تھے یا حلال و حرام سے واقف نہ تھے۔ ہاں تیسرا ذریعہ ہدایت کا حدیث ہے کیونکہ بہت سے اسلام کے تاریخی اور اخلاقی اور فقہ کے امور کو حدیثیں کھول کر بیان کرتی ہیں۔ اور نیز بڑا فائدہ حدیث کا یہ ہے کہ وہ قرآن کی خادم اور سنت کی خادم ہے جن لوگوں کو ادب قرآن اہل حدیث فعل رسول اور قول رسول دونوں کا نام حدیث ہی رکھتے ہیں ہمیں ان کی اصطلاح سے کچھ غرض نہیں دراصل سنت الگ ہے جس کی اشاعت کا اہتمام خود آنحضرت نے بذات خود فر مایا اور حدیث الگ ہے جو بعد میں جمع ہوئی ۔ منہ