کشف الغطاء — Page 212
روحانی خزائن جلد ۱۴ ۲۱۲ کشف الغطاء شہزادہ یوز آسف نبی کی قبر اور بعض عیسی صاحب نبی کی قبر کہتے ہیں اس مطلب کی مؤید ہے اور اس قبر میں ایک کھڑ کی بھی ہے جو بر خلاف دنیا کی تمام قبروں کے اب تک موجود ہے۔ کشمیر کے بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اس قبر کے ساتھ کوئی خزانہ بھی مدفون ہے اس لئے کھڑ کی ہے میں کہتا ہوں شاید کچھ جواہرات ہوں مگر میری دانست میں یہ کھڑ کی اس لئے رکھی ہے کہ کوئی عظیم الشان کتبہ اس قبر کے اندر ہے۔ یہ اسی طرح کا واقعہ معلوم ہوتا ہے جیسا کہ انہی دنوں میں ضلع پیرا کوئی میں جو ممالک شمال مغرب کے ضلع سرحد نیپال میں ایک گاؤں ہے ایک ٹیلہ کے اندر سے ایک بھاری صندوق نکلا ہے جس میں جواہرات اور زیور اور کچھ ہڈی اور راکھ تھی اور صندوق پر یہ کندہ تھا کہ گوتم بدھ سا کی منی کے پھول ہیں اور نبی کا لفظ جو اس صاحب قبر کی نسبت کشمیر کے ہزار ہا لوگوں کی زبان پر جاری ہے یہ بھی ہمارے مدعا کے لئے ایک دلیل ہے کیونکہ نبی کا لفظ عبری اور عربی دونوں زبانوں میں مشترک ہے دوسری کسی زبان میں یہ لفظ نہیں آیا اور اسلام کا اعتقاد ہے کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کبھی نبی نہیں آئے گا اس لئے متعین ہوا کہ یہ عبرانی نبیوں میں سے ایک نبی ہے اور پھر شاہزادہ کے لفظ پر غور کر کے اور بھی ہم اصل حقیقت سے نزدیک آجاتے ہیں۔ اور پھر کشمیر کے تمام باشندوں کا اس بات پر اتفاق دیکھ کر کہ یہ نبی جس کی کشمیر میں قبر ہے ہمارے نبی صلے اللہ علیہ وسلم سے چھ سو برس پہلے گذرا ہے۔ صاف طور پر حضرت عیسی علیہ السلام کو متعین کر رہا ہے اور صفائی سے یہ فیصلہ ہو جاتا ہے کہ یہی وہ پاک اور معصوم نبی اور خدا تعالیٰ کے جلال کے تخت سے ابدی شہزادہ ہے جس کو نالائق اور بدقسمت یہودیوں نے صلیب کے ذریعہ سے مارنا چاہا تھا۔ ایک اور دلیل ہمارے اس دعوے پر یہ ہے کہ جس قدر حال تک کتابیں یوز آسف کے سوانح اور تعلیم کے متعلق ہم کو ملی ہیں جس کی قبر سرینگر میں ہے وہ تمام تعلیم انجیل کی اخلاقی تعلیم سے بشدت مشابہت رکھتی ہے بلکہ بعض فقرات تو بعینہ انجیل کے فقرات ہیں ۔ منہ