کشف الغطاء — Page 211
روحانی خزائن جلد ۱۴ ۲۱۱ کشف الغطاء اور پھر دوسرا ماخذ اس تحقیق کا مختلف قوموں کی وہ تاریخی کتا ہیں ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ ضرور حضرت عیسی علیہ السلام ہندوستان اور تبت اور کشمیر میں آئے تھے اور حال میں جو ایک روسی انگریز نے بدھ مذہب کی کتابوں کے حوالہ سے حضرت عیسی علیہ السلام کا اس ملک میں آنا ثابت کیا ہے وہ کتاب میں نے دیکھی ہے اور میرے پاس ہے وہ کتاب بھی اس رائے کی مؤید ہے۔ بقیه نوٹ اور پھر سب سے اخیر شاہزادہ نبی کی قبر جوسری نگر محلہ خان یار میں ہے جس کو عوام سمجھا دیا ہے کہ وہ یونس نبی کی طرح قبر میں زندہ ہونے کی حالت میں داخل کئے گئے اور جب تک قبر میں رہے زندہ رہے۔ ورنہ مردوں کو زندہ سے کیا مشابہت ہو سکتی ہے اور ضرور ہے کہ نبی کی مثال بے ہودہ اور بے معنی نہ ہو انجیل میں ایک دوسری جگہ بھی اسی امر کی طرف اشارہ ہے جہاں لکھا ہے کہ زندہ کو مردوں میں کیوں ڈھونڈتے ہو ۔ بعض حواریوں کا یہ خیال کہ حضرت عیسیٰ صلیب پر فوت ہو گئے تھے ہر گز صحیح نہیں ہے کیونکہ آپ کا قبر سے نکلنا اور حواریوں کو اپنے زخم دکھلانا اور یونس نبی سے اپنی مشابہت فرمانا یہ سب باتیں اس خیال کو رڈ کرتی ہیں اور اس کے مخالف ہیں۔ پھر حواریوں میں اس مقام میں اختلاف بھی ہے چنانچہ برنباس کی انجیل میں جس کو میں نے بچشم خود دیکھا ہے حضرت عیسی کے صلیب پر فوت ہونے سے انکار کیا گیا ہے اور انجیل سے ظاہر ہے کہ برنباس بھی ایک بزرگ حواری تھا اور آپ کا آسمان پر جانا ایک روحانی امر ہے ۔ آسمان پر وہی چیز جاتی ہے جو آسمان سے آتی ہے اور جو زمین کا ہے وہ زمین میں جاتا ہے۔ توریت اور قرآن نے بھی یہی گواہی دی ہے اور جب کہ یہودی صلیبی کارروائی کی وجہ سے حضرت مسیح کے روحانی رفع سے منکر تھے اس لئے ان کو جتایا گیا کہ حضرت مسیح آسمان پر گئے یعنی خدا نے نجات دے کر لعنت سے جو نتیجہ صلیب تھا ان کو بری کر لیا اور ان چند حواریوں کی گواہی کیونکر لائق قبول ہو سکتی ہے جو واقعہ صلیب کے وقت حاضر نہ رہے اور جن کے پاس شہادت رویت نہیں ہے ۔ منہ