کشف الغطاء — Page 208
روحانی خزائن جلد ۱۴ ۲۰۸ کشف الغطاء مسلمانوں کو قتل کیا تھا۔ مگر اب مذہبی کینہ اور تعصب سے مسلمانوں کو کوئی قتل نہیں کرتا اور مذہب کے لئے ان پر کوئی تلوار نہیں چلاتا ۔ ہاں دنیا داری کے طور پر دنیا داروں کی باہم لڑائیاں ہوتی ہیں سو ہوا کریں ہمیں ان سے کیا غرض ہے۔ پھر جس حالت میں اسلام کے نابود کرنے کے لئے کوئی تلوار نہیں اٹھاتا تو سخت جہالت اور قرآن کی مخالفت ہے کہ دین کے بہانہ سے تلوار اٹھائی جائے ۔ اگر کوئی ایسا شخص خونی مہدی یا مسیح کے نام پر دنیا میں آوے اور لوگوں کو ترغیب دے کہ تم کافروں سے لڑو تو سمجھنا چاہیے کہ وہ کذاب اور جھوٹا ہے اور قرآن کی تعلیم کے موافق کا رروائی نہیں کرتا بلکہ مخالف راہ پر چلتا ہے ۔ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ ایسے اعتقاد والے قرآن کی پیروی نہیں کرتے بلکہ ایک جاہلانہ رسم اور عادت کے بت کی پرستش کرتے ہیں اور یہ پادریوں کی بھی نادانی اور سراسر غلطی ہے کہ ناحق ہمیشہ شور مچاتے رہتے ہیں کہ اسلام میں تلوار سے دین کو بڑھانا قرآن کا حکم ہے اور اس طرح پر نادان جاہلوں کو اور بھی بیہودہ اور باطل خیالات کی طرف رجوع دیتے اور ابھارتے ہیں ۔ ان لوگوں کو قرآن کا علم نہیں ہے اور نہ خدا سے الہام پاتے ہیں کہ تا خدا کے کلام کے معنے خدا سے معلوم کریں اور اس طرح پر ناحق ایک خلاف واقعہ بات کی یاد دہانی کراتے رہتے ہیں ۔ مجھے خدا نے قرآن کا علم دیا ہے ۔ اور زبان عرب کے محاورات کے سمجھنے کے لئے وہ فہم عطا کیا ہے کہ میں بلا فخر کہتا ہوں کہ اس ملک میں کسی دوسرے کو یہ فہم عطا نہیں ہوا۔ میں زور سے کہتا ہوں کہ قرآن میں ایسی تعلیم ہرگز نہیں ہے کہ دین کو تلوار کے ساتھ مدد دی جائے یا اعتراض کرنے والوں پر تلوار اٹھائی جائے۔ قرآن بار بار ہمیں تعلیم دیتا ہے کہ تم مخالفوں کی ایذا پر صبر کرو ۔ پس یقینا سمجھنا چاہیے کہ ایسا مہدی یا مسیح اسلام میں ہر گز نہیں آئے گا کہ جو دین کے لئے تلوار اٹھائے ۔ سچا دین دلائل کے ذریعہ سے دلوں کے اندر جاتا ہے نہ تلوار کے ساتھ بلکہ تلوار تو اور بھی مخالف کو اعتراض کا موقعہ دیتی ہے۔ خدا تعالیٰ نے یہ نہایت فضل کیا ہے کہ ان لوگوں کے ان باطل خیالات