کشف الغطاء — Page 206
روحانی خزائن جلد ۱۴ ۲۰۶ کشف الغطاء کر دیا تھا اور بذریعہ اشتہار خود ظاہر کر دیا تھا کہ یہ پیشگوئی میری رضامندی سے ہوئی ہے۔ اور خود ظاہر ہے کہ لیکھرام جیسا مخالف شخص ایسی پیشگوئی کو سن کر بحالت نارضامندی نالش کرنے سے کیونکر رک سکتا تھا۔ یہ واقعہ صد ہا آدمیوں کو معلوم ہے کہ وہ اس پیشگوئی کے حاصل کرنے کے لئے قریباً دو ماہ تک قادیان میں رہا تھا۔ پھر پیشگوئی کے بعد پانچ برس برابر زندہ رہا اور کسی کے پاس شکایت نہ کی کہ میرے خلاف مرضی یہ پیشگوئی ہوئی ۔ آخر پیشگوئی کی میعاد کے اندر ہی خدا تعالیٰ کی مرضی سے اس جہان سے گذر گیا۔ اس نے موت کے وقت بھی میری نسبت کوئی شک ظاہر نہیں کیا کیونکہ وہ دل سے جانتا تھا کہ میں شریر النفس اور منصو بہ باز نہیں ہوں۔ اور جو شخص روح القدس سے بولتا ہے کیا وہ اس بد معاش سے مشابہت رکھتا ہے جو شیطانی اور مجرمانہ فریب سے کوئی حرکت بے جا کرتا ہے؟ جو خدا سے بولتا ہے وہ خلقت کے رو بروئے بھی شرمندہ نہیں ہوسکتا۔ یہ ہزار ہا شکر کا حمل ہے کہ مہربان اور منصف مزاج اور دانا گورنمنٹ کے سایہ کے نیچے ہم زندگی بسر کرتے ہیں ۔ اگر میری قوم کے یہ مولوی مجھ پر دانت پیتے ہیں اور مجھ کو جھوٹا اور بد اعمال خیال کرتے ہیں تو میں اس محسن (۲۳) گورنمنٹ کو اپنے اور ان لوگوں کے فیصلہ کے لئے اس طرح پر منصف کرتا ہوں کہ کوئی آئندہ کی غیب گوئی جو انسان کی نیکی یا بدی سے کچھ بھی تعلق نہ رکھے اور کسی انسانی فرد پر اس کا اثر نہ ہوا اپنے خدا سے حاصل کر کے بتلاؤں اور اپنے صدق یا کذب کا اس کو مدارٹھہراؤں اور درصورت کا ذب ہونے کے ہر ایک سزا اُٹھاؤں مگر ان میں کون ہے جو اس فیصلہ کو منظور کرے؟۔ افسوس کہ اس محمد حسین کو خوب معلوم ہے کہ لیکھرام نے نہایت اصرار سے یہ پیشگوئی حاصل کی اور ایک مدت تک قادیاں میں اسی غرض سے میرے پاس رہا تھا۔ اور ڈپٹی عبداللہ آتھم خود سرکاری قوانین سے واقف تھے ۔ پس کیونکر ہو سکتا تھا کہ ایسا آدمی جو اکسٹرا اسٹنٹ بھی رہ چکا تھا میرے خود بخود پیشگوئی کرنے کی حالت میں خاموش رہ سکتا ۔ اور ایک دستی تحریر ان کی مسل مقدمہ ڈاکٹر کلارک میں میں نے شامل بھی کرائی ہے ۔ اور