کشف الغطاء — Page 201
روحانی خزائن جلد ۱۴ ۲۰۱ كشف الغطاء صفحہ ۱۷۷ اور ۱۷۸ میں لکھتا ہے کہ مرزا غلام احمد صاحب درویشانہ طور پر گورنمنٹ انگریزی کی خیر خواہی میں ہمیشہ مصروف رہے اور بار ہا انہوں نے لکھا ہے کہ یہ گورنمنٹ مسلمانوں کے لئے آسمانی برکت کا حکم رکھتی ہے ۔ اور خداوند رحیم نے اس سلطنت کو مسلمانوں کے لئے ایک بارانِ رحمت بھیجا ہے۔ ایسی سلطنت سے لڑائی اور جہاد کرنا قطعی حرام ہے ایسا ہی محمد حسین نے اشاعۃ السنہ کے کئی اور پرچوں میں میری نسبت صاف طور پر گواہی دی ہے کہ شخص غریب طبع اور بے شر اور گورنمنٹ انگلشیہ کا خیر خواہ ہے اور اس گواہی پر سالہا سال تک اور اس وقت تک قائم رہا جب تک کہ میں نے ان لوگوں کے ان اعتقادات سے انکار کیا کہ جو ان لوگوں کے دلوں میں جمے ہوئے ہیں کہ دنیا میں ایک مہدی آئے گا اور نصاری سے لڑے گا اور اس کی مدد کرنے کے لئے حضرت عیسی علیہ السلام آسمان سے اتریں گے اور زمین پر کسی کافر کو نہیں چھوڑیں گے اور کافروں کی دولت مولویوں اور دوسرے مسلمانوں کو ملے گی اور اتنی دولت ملے گی کہ وہ اس کے رکھنے سے عاجز آ جائیں گے۔ ان بے بنیاد اور بیہودہ قصوں کو میں نے قبول نہیں کیا اور بار بار لکھا کہ یہ خیالات حدیث اور قرآن سے ثابت نہیں اور سراسر لغو اور باطل ہیں اور نہ صرف انکار کیا (19) بلکہ یہ بھی ظاہر کیا کہ میں خدا تعالیٰ کے ارادہ کے موافق اور اس کے الہام سے مسیح موعود کے نام پر آیا ہوں اور میں لوگوں پر ظاہر کرتا ہوں کہ عام مسلمانوں کے یہ اعتقاد کہ بنی فاطمہ سے ایک مہدی اٹھے گا اور مسیح آسمان سے اس کی مدد کے لئے آئے گا ۔ پھر وہ زمین پر کافروں کے ساتھ لڑیں گے اور نصاری کے ساتھ ان کی لڑائیاں ہوں گی اور مولویوں اور ان کے ہم خیال لوگوں کو انعام دینے کے لئے بہت سا مال اکٹھا کیا جائے گا ۔ یہ سب جھوٹے اور بے اصل خیالات ہیں بلکہ ایسی لڑائیاں کرنے والا کوئی نہیں آئے گا۔ صرف روحانی طور پر غافل لوگوں کی اصلاح منظور تھی ۔ سو اس اصلاح کے لئے میں آیا ہوں سو یہ وعظ میرا ان لوگوں کو نہایت برا معلوم ہوا کیونکہ کروڑہا خیالی روپیوں کا نقصان ہو گیا ۔ اور