کرامات الصادقین — Page 55
روحانی خزائن جلدے كرامات الصادقين عیسائیوں میں نہیں پائی جاتیں بلکہ حضرت عیسی نے یہ بات کہہ کر کہ اگر رائی کے دانہ کے برابر بھی تم میں ایمان ہو تو یہ تمام کام جو میں کرتا ہوں تم کرو گے بلکہ مجھ سے زیادہ کرو گے اس بات پر مہر لگادی کہ تمام عیسائی بے ایمان ہیں اور جب بے ایمان ہوئے تو اُن کو یہ حق بھی نہیں پہنچتا کہ کسی سے سچائی دین کے بارے میں بحث کریں جب تک پہلے اپنی ایمانداری ثابت نہ کرلیں کیونکہ ان کی حالت یہ گواہی دے رہی ہے کہ بوجہ نہ پائے جانے قرار داده علامتوں کے یا تو وہ بے ایمان ہیں اور یا وہ شخص کا ذب ہے جس نے ایسی علامتیں ان کے لئے قرار دیں جو انمیں پائی نہیں جاتیں اور دونوں طور کے احتمال کی رُو سے ثابت ہوتا ہے کہ عیسائی لوگ سچائی سے بلکلی دور و مهجور و بے نصیب ہیں مگر قرآن کریم نے اپنے پیروؤں کے لئے جو علامتیں قرار دی ہیں وہ صدہا مسلمانوں میں پائی جاتی ہیں جس سے ثابت ہو گیا کہ قرآن کریم خدا تعالیٰ کا برحق کلام ہے لیکن اگر عیسائیوں کو ایماندار مان لیا جاوے تو ساتھ ہی مانا پڑیگا کہ انجیل موجودہ کسی ایسے شخص کا کلام ہے کہ جو جھوٹی پیشگوئیوں کے سہارے سے اپنے گروہ کو قائم رکھنا چاہتا ہے مگر یادر ہے کہ اس تقریر سے حضرت مسیح علیہ السلام پر ہمارا کوئی حملہ نہیں کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ اگر یہ باتیں حضرت مسیح کی طرف سے ہیں تو انہوں نے ایمانداروں کی یہ نشانیاں لکھ دیں۔ پھر اگر کوئی ایمانداری کو چھوڑ دے تو حضرت مسیح کا کیا قصور ۔ بلکہ حضرت مسیح نے ان علامات کے لباس میں عیسائیوں کے بے ایمان ہو جانے کے زمانہ کی ایک پیشگوئی کر دی ہے یعنی یہ کہہ دیا ہے کہ جب اے عیسائیو تمہارے پر ایسا زمانہ آوے کہ تم میں یہ علامتیں نہ پائی جاویں تو سمجھو کہ تم بے ایمان ہو گئے اور ایک رائی کے دانہ کے برابر بھی تم میں ایمان نہ رہا۔ اس میں شک نہیں کہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور سے پہلے عیسائیوں کے بعض خواص افراد میں یہ علامتیں پائی جاتی تھیں اور خوارق اُن سے ظہور میں آتے تھے لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ بعثت میں جب وہ لوگ بہ باعث نہ قبول کرنے اُس آفتاب