کرامات الصادقین — Page 54
روحانی خزائن جلدے ۵۴ كرامات الصادقين (۱۳) پر محیط ہو رہا ہے اور آیت موصوفہ میں سیدھی راہ سے وہی راہ مراد ہے کہ جو راہ انسان کی فطرت سے نہایت نزدیک ہے یعنی جن کمالات کے لئے انسان پیدا کیا گیا ہے اُن تمام کمالات کی راہ اُس کو دکھلا دینا اور وہ راہیں اُس کے لئے میسر اور آسان کر دینا جن کے حصول کے لئے اُس کی فطرت میں استعداد رکھی گئی ہے اور لفظ افــوم سے آیت يَهْدِي لِلَّتِي هِيَ أَقْوَمُ میں یہی راستی مراد ہے۔ پھر بعد اس کے فرمایا کہ قرآن کریم تمام جھگڑوں کا فیصلہ کرتا ہے۔ اور یہ قول بھی اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اس میں تمام اقسام حکمت الہی کے موجود ہیں کیونکہ جو کتاب خود ناقص اور بعض معارف سے خالی ہو وہ عام طور پر الہیات کے تخطیوں اور مصیوں کیلئے قاضی اور حکم نہیں ٹھہر سکتی بلکہ اُسی وقت حکم ٹھہرے گی کہ جب جامع جمیع علوم حکمیہ ہوگی ۔ اور پھر فرمایا کہ یہ قرآن تمام شکوک سے پاک ہے اور اس کی تعلیمات میں شک اور شبہ کو راہ نہیں یعنی علوم یقینیہ سے پُر ہے۔ اور پھر فرمایا کہ یہ قرآن وہ حکمت ہے جو اپنے کمال کو پہنچی ہوئی ہے اور تمام الہی کتابوں پر حاوی ہے اور تمام معارف دینیہ کا اُس میں بیان موجود ہے وہ ہدایت کرتا ہے اور ہدایت پر دلائل لاتا ہے اور پھر حق کو باطل سے جدا کر کے دکھلا دیتا ہے اور وہ پر ہیز گاروں کو اُس کی نیک استعدادیں جو اُن میں موجود ہیں یا د دلا دیتا ہے اور اُس کی تعلیم یقین کے مرتبہ پر ہے اور وہ غیب گوئی میں بخیل نہیں ہے یعنی اُس میں امور غیبیہ بہت بھرے ہوئے ہیں اور پھر صرف اتنا نہیں کہ اپنے اندر ہی امور غیبیہ رکھتا ہے بلکہ اس کا سچا پیرو بھی منجانب اللہ الہام پا کر امور غیبیہ کو پا سکتا ہے اور یہ فیض اسی پاک کتاب کا ہے جو بخیل نہیں ہے۔ اور دوسری کتا ہیں اگر چہ منجانب اللہ بھی ہوں مگر اب وہ بخیل کا ہی حکم رکھتی ہیں جیسے انجیل اور توریت کہ اب ان کی پیروی کرنے والا کوئی نور حاصل نہیں کرسکتا بلکہ انجیل تو عیسائیوں سے ایک ٹھٹھا کر رہی ہے کیونکہ جو عیسائی ایمانداروں کی علامتیں انجیل نے ٹھہرائی ہیں کہ وہ نا قابل علاج بیماروں یعنی مادر زاد اندھوں اور مجز وموں اور لنگڑوں اور بہروں کو اچھا کریں گے اور پہاڑوں کو حرکت دے دیں گے اور زہر کھانے سے نہیں مریں گے یہ علامتیں بنی اسرائیل ۱۰