کرامات الصادقین — Page 48
روحانی خزائن جلدے ۴۸ كرامات الصادقين کلام الہی میں ید طولیٰ رکھتے ہیں قرین مصلحت سمجھا گیا کہ اب آخری دفعہ اتمام حجت کے طور پر بطالوی صاحب اور ان کے ہم مشرب دوسرے علماء کی عربی دانی اور حقائق شناسی کی حقیقت ظاہر کرنے کے لیے یہ رسالہ شائع کیا جائے اور واضح رہے کہ اس رسالہ میں چار قصائد اور ایک تفسیر سورۃ فاتحہ کی ہے اور اگر چہ یہ قصائد صرف ایک ہفتہ کے اندر بنائے گئے ہیں بلکہ حق یہ ہے کہ چند ساعت میں لیکن بطالوی صاحب اور ان کے ہم مشرب مخالفوں کے لیے محض اتمام حجت کی غرض سے پوری ایک ماہ کی مہلت دیکر یہ اقرار شرعی قانونی شائع کیا جاتا ہے کہ اگر وہ اس رسالہ کی اشاعت سے ایک ماہ کے عرصہ تک اسکے مقابل پر اپنا فصیح بلیغ رسالہ شائع کر دیں جس میں اس تعداد کے موافق اشعار عر بیہ ہوں جو ہمارے اس رسالہ میں ہیں اور ایسے ہی حقایق اور معارف اور بلاغت کے التزام سے سورہ فاتحہ کی تفسیر ہو جو اس رسالہ میں لکھی گئی ہے تو اُن کو ہزار روپیہ انعام دیا جائے گاور نہ آئندہ ان کو یہ دم مارنے کی گنجائش نہیں ہوگی کہ وہ ادیب اور عربی دان ہیں یا قرآن کریم کی حقایق شناسی میں کچھ بھی اُن کو مس ہے۔ اور میں نے سنا ہے کہ یہ گروہ علماء کا اپنے اپنے مکانوں میں بیٹھ کر اس عاجز کو ایک طرف تو کا ذب اور دجال اور کا فرٹھہراتے ہیں اور ایک طرف یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ شخص سراسر جاہل ہے اور علم عربی سے بکلی بیخبر ۔سواس مقابلہ سے بتامتر صفائی ظاہر اور ثابت ہو جائے گا کہ اس بیان میں یہ لوگ کا ذب ہیں یا صادق ۔ اور چونکہ ان لوگوں کے دلوں میں دیانت اور خدا ترسی نہیں اس لئے اب میں نہیں چاہتا کہ بار بار ان کی طرف توجہ کروں۔ اور اگر چہ میں ایک صریح کشف کے رو سے ایسے متعصب اور کج دل لوگوں کے ساتھ مباحثات کرنے سے روکا گیا ہوں جس کا ذکر میری کتاب آئینہ کمالات اسلام میں چھپ چکا ہے لیکن یہ مقابلہ نشان نمائی کے طور پر ہے اور بلحاظ تو رع وتقویٰ آئندہ یہ عہد بھی کرتا ہوں کہ اگر اب میاں محمد حسین بطالوی یا کسی دوسرے مولوی نے