کرامات الصادقین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 61 of 417

کرامات الصادقین — Page 61

روحانی خزائن جلدے บ كرامات الصادقين سوان معنوں کے رو سے اس آیت کا یہی مطلب ہوا کہ خواص مخلوقات بیحد اور بے نہایت 19 ہیں اور جبکہ ہر یک چیز اور ہر یک مخلوق کے خواص بیحد اور بے نہایت ہیں اور ہر یک چیز غیر محدود عجائبات پر مشتمل ہے تو پھر کیونکر قرآن کریم جو خدا تعالی کا پاک کلام ہے صرف ان چند معانی میں محدود ہو گا کہ جو چالیس پچاس یا مثلاً ہزار جزو کی کسی تفسیر میں لکھے ہوں یا جس قدر ہمارے سید و مولی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک زمانہ محدود میں بیان کئے ہوں۔ نہیں بلکہ ایسا کلمہ منہ پر لانا میرے نزدیک قریب قریب کفر کے ہے۔ اگر عمداً اُس پر اصرار کیا جائے تو اندیشہ کفر ہے۔ یہ سچ ہے کہ جو کچھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کریم کے معنے بیان فرمائے ہیں وہی صحیح اور حق ہیں مگر یہ ہرگز سچ نہیں کہ جو کچھ قرآن کریم کے معارف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمائے اُن سے زیادہ قرآن کریم میں کچھ بھی نہیں۔ یہ اقوال ہمارے مخالفوں کے صاف دلالت کر رہے ہیں کہ وہ قرآن کریم کی غیر محدودہ عظمتوں اور خوبیوں پر ایمان نہیں لاتے اور ان کا یہ کہنا کہ قرآن کریم ایسوں کے لئے اُترا ہے جو امی تھے اور بھی اس امر کو ثابت کرتا ہے کہ وہ قرآن شناسی کی بصیرت سے بکلی بے بہرہ ہیں۔ وہ نہیں سمجھتے کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم محض امیوں کے لئے نہیں بھیجے گئے بلکہ ہر یک رتبہ اور طبقہ کے انسان اُن کی اُمت میں داخل ہیں اللہ جل شانہ فرماتا ہے قُلْ يَأَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا پس اس آیت سے ثابت ہے کہ قرآن کریم ہر یک استعداد کی تکمیل کے لئے نازل ہوا ہے اور در حقیقت آیت وَ لكِن رسُولَ اللهِ وَخَاتَمَ البِيْنَ " میں بھی اسی کی طرف اشارہ ہے۔ پس یہ خیال کہ گویا جو کچھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کریم کے بارہ میں بیان فرمایا اُس سے بڑھ کر مکن نہیں بدیہی البطلان ہے۔ ہم نہایت قطعی اور یقینی دلائل سے ثابت کر چکے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی کلام کے لئے ضروری ہے کہ اس کے عجائبات غیر محدود اور نیز بے مثل ہوں ۔ اور اگر یہ اعتراض ہو کہ الاعراف :۱۵۹ الاحزاب : ۴۱