کرامات الصادقین — Page 60
روحانی خزائن جلدے ۶۰ كرامات الصادقين اب اس مقام میں ثابت ہوا کہ قرآن کریم صرف اپنی بلاغت وفصاحت ہی کے رو سے بینظیر نہیں بلکہ اپنی ان تمام خوبیوں کی رُو سے بینظیر ہے جن خوبیوں کا جامع وہ خود اپنے تئیں قرار دیتا ہے اور یہی صحیح بات بھی ہے کیونکہ خدا تعالیٰ کی طرف سے جو کچھ صادر ہے اُس کی صرف ایک خوبی ہی بیشل نہیں ہونی چاہیے بلکہ ہر یک خوبی بیشل ہوگی۔ بلاشبہ جو لوگ قرآن کریم کو غیر محدود حقایق اور معارف کا جامع نہیں سمجھتے وہ ماقدروا القرآن حق قدرہ میں داخل ہیں۔ خدا تعالیٰ کی پاک اور کچی کلام کو شناخت کرنے کی یہ ایک ضروری نشانی ہے کہ وہ اپنی جمیع صفات میں بے مثل ہو کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ جو چیز خدا تعالیٰ سے صادر ہوئی ہے اگر مثلاً ایک جو کا دانہ ہے وہ بھی بینظیر ہے اور انسانی طاقتیں اُس کا مقابلہ نہیں کرسکتیں اور بے مثل ہونا غیر محدود ہونے کو مستلزم ہے یعنی ہر یک چیز اُسی حالت میں بے نظیر ٹھہر سکتی ہے جبکہ اُس کی عجائبات اور خواص کی کوئی حد اور کنارہ نظر نہ آوے اور جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں یہی خاصیت خدا تعالی کی ہر یک مخلوق میں پائی جاتی ہے مثلاً اگر ایک درخت کے پتے کی عجائبات کی ہزار برس تک بھی تحقیقات کی جائے تو وہ ہزار برس ختم ہو جائے گا مگر اس پتے کے عجائبات ختم نہیں ہوں گے اور اس میں ستر یہ ہے کہ جو چیز غیر محدود قدرت سے وجود پذیر ہوئی ہے اس میں غیر محدود عجائبات اور خواص کا پیدا ہونا ایک لازمی اور ضروری امر ہے اور یہ آیت که قُل لَّوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِكَلِمَتِ رَبِّي لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ أَنْ تَنْفَدَ كَلِمَتُ رَبِّي وَلَوْ جِئْنَا بِمِثْلِهِ مَدَدًا ۔ اپنے ایک معنے کی رو سے اسی امر کی مؤید ہے کیونکہ مخلوقات اپنے مجازی معنوں کی رو سے تمام کلمات اللہ ہی ہیں اور اسی کی بناء پر یہ آیت ہے کہ كَلِمَتُهُ الْقُهَا إلى مَرْيَمَ - کیونکہ ابن مریم میں دوسری مخلوقات میں سے کوئی امر زیادہ نہیں اگر وہ کلمۃ اللہ ہے تو آدم بھی کلمتہ اللہ ہے اور اس کی اولا د بھی کیونکہ ہر یک چیز كن فيكون کے کلمہ سے پیدا ہوئی ہے اسی طرح مخلوقات کی صفات اور خواص بھی کلمات ربی ہیں یعنی مجازی معنوں کی رو سے کیونکہ وہ تمام کلمہ کن فیکون سے نکلے ہیں۔ الكهف : ١١٠ النساء :۱۷۲