کرامات الصادقین — Page 59
روحانی خزائن جلدے ۵۹ كرامات الصادقين روحانی دونوں طور کی روشنی اپنے اندر رکھتی ہیں ۔ پھر بعد اس کے فرمایا کہ قرآن میں اس قدر (۱۷) عظمت حق کی بھری ہوئی ہے کہ خدا تعالیٰ کی آیتوں کے سننے سے اُن کے دلوں پر قشعر یرہ پڑ جاتا ہے اور پھر اُن کی جلد میں اور اُن کے دل یا دالہی کے لئے بہ نکلتے ہیں۔ اور پھر فرمایا کہ یہ کتاب حق ہے اور نیز میزان حق یعنی یہ حق بھی ہے اور اس کے ذریعہ سے حق شناخت بھی ہو سکتا ہے۔ اور پھر فرمایا کہ خدا تعالیٰ نے آسمان پر سے پانی اُتارا۔ پس اپنے اپنے قدر پر ہر یک وادی به کلی یعنی جس قدر دنیا میں طبائع انسانی ہیں قرآن کریم اُنکے ہر یک مرتبہ فہم اور عقل اور ادراک کی تربیت کرنے والا ہے اور یہ امرمستلزم کمال تام ہے کیونکہ اس آیت میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ قرآن کریم اس قدر وسیع دریائے معارف ہے کہ محبت الہی کے تمام پیاسے اور معارف حقہ کے تمام تشنہ لب اسی سے پانی پیتے ہیں۔ اور پھر فرمایا کہ ہم نے قرآن کریم کو اس لئے اُتارا ہے کہ تا جو پہلی قوموں میں اختلاف ہو گئے ہیں اُن کا اظہار کیا جائے ۔ اور پھر فرمایا کہ یہ قرآن ظلمت سے نور کی طرف نکالتا ہے۔ اور اُس میں تمام بیماریوں کی شفا ہے اور طرح طرح کی برکتیں یعنی معارف اور انسانوں کو فائدہ پہنچانے والے امور اس میں بھرے ہوئے ہیں اور اس لائق ہے کہ اس کو تدبر سے دیکھا جائے اور عقلمند اس میں غور کریں اور سخت جھگڑالو اس سے ملزم ہوتے ہیں اور ہر یک شے کی تفصیل اس میں موجود ہے اور یہ ضرورت حقہ کے وقت نازل کیا گیا ہے۔ اور ضرورت حقہ کے ساتھ اترا ہے اور یہ کتاب عزیز ہے باطل کو اس کے آگے پیچھے راہ نہیں اور یہ نور ہے جس کے ذریعہ سے ہدایت دی جاتی ہے اس میں ہر یک شے کا بیان موجود ہے اور یہ روح ہے اور یہ کتاب عربی فصیح بلیغ میں ہے اور تمام صداقتیں غیر متبدل اس میں موجود ہیں ان کو کہدے کہ اگر جن وانس اس کی نظیر بنانا چاہیں یعنی وہ صفات کا ملہ جو اس کی بیان کی گئی ہیں اگر کوئی ان کی مثل بنی آدم اور جنات میں سے بنانا چاہیں تو یہ اُن کے لئے ممکن نہ ہوگا اگر چہ ایک دوسرے کی مدد بھی کریں۔